حدیث نمبر: 4701
وَعَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَادَ بِلَالًا فَأَخْرَجَ لَهُ صُبْرَةً مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا بِلَالُ ؟ " قَالَ : ادَّخَرْتُهُ لَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ! قَالَ : " أَمَا تَخْشَى أَنْ يُجْعَلَ لَكَ بُخَارٌ فِي جَهَنَّمَ ؟ أَنْفِقْ بِلَالُ وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَرَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ بِإِسْنَادٍ حَسَنٍ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کی عیادت کے لئے تشریف لے گئے انہوں نے کھجوروں کا ایک ڈھیر آپ کے سامنے پیش کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : بلال یہ کس لئے ہیں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میں نے آپ کے لئے سنبھال کے رکھی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تمہیں اس بات کا اندیشہ نہیں ہے کہ جہنم میں بخار تمہارے لئے مقرر کر دیا ہو ۔ اے بلال ! خرچ کرو اور عرش والی ذات کی طرف سے کمی کا اندیشہ نہ رکھو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی مبارک بن فضالہ ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، لیکن اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کے بقیہ رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔ یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں حسن سند کے ساتھ نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4701
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (1025) و (1026) اخرجه ابو يعلي فى المسند (3640) اخرجه البزار فى المسند (3654 و3655)»