حدیث نمبر: 4700
وَعَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ قَالَ : دَخَلَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى بِلَالٍ وَعِنْدَهُ صُبْرَةٌ مِنْ تَمْرٍ فَقَالَ : " مَا هَذَا يَا بِلَالُ ؟ " قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادَّخَرْتُهُ لَكَ وَلِضِيفَانِكَ . فَقَالَ : " أَمَا تَخْشَى أَنْ يَفُورَ لَهُ بُخَارٌ فِي جَهَنَّمَ ؟ أَنْفِقْ بِلَالُ ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ وَثَّقَهُ شُعْبَةُ ، وَالثَّوْرِيُّ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا بلال رضی اللہ عنہ کے پاس تشریف لائے ان کے پاس کھجوروں کا ایک ڈھیر موجود تھا آپ نے ارشاد فرمایا : اے بلال یہ کس لئے ہے ۔ انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ میں نے آپ کے لئے اور آپ کے مہمانوں کے لئے سنبھال کے رکھی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے نہیں ڈرتے ہو کہ جہنم میں بخار اس پر آ جائے گا : اے بلال خرچ کرو اور عرش والی ذات کی طرف سے کمی کا اندیشہ نہ رکھو “ ۔ یہ تمام روایات امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہیں اس کی سند میں ایک راوی قیس بن ربیع ہے ، جسے شعبہ اور ثوری نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔ اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4700
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (10300) اخرجه البزار فى المسند (3653)»