مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الِادِّخَارِ . باب: ذخیرہ کرنا ( یعنی کوئی چیز سنبھال کر رکھنا )
وَفِي رِوَايَةٍ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَطْعِمْنَا يَا بِلَالُ " . ثُمَّ أَقْبَضْتُ لَهُ قَبَضَاتٍ فَقَالَ : " زِدْنَا يَا بِلَالُ " . فَزِدْتُهُ ثَلَاثًا . فَقُلْتُ : لَمْ يَبْقَ شَيْءٌ إِلَّا شَيْئًا ادَّخَرْتُهُ لِرَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - ، فَقَالَ : " أَنْفِقْ بِلَالُ ، وَلَا تَخْشَ مِنْ ذِي الْعَرْشِ إِقْلَالًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي الْأُولَى مُحَمَّدُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ زُبَالَةَ ، وَفِي الثَّانِيَةِ طَلْحَةُ بْنُ زَيْدٍ الْقُرَشِيِّ وَكِلَاهُمَا ضَعِيفٌ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ہمیں کھانے کے لئے دو ! میں نے کچھ مٹھی کھجوریں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں پیش کیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اے بلال مزید دو میں نے تین مرتبہ مزید پیش کیں میں نے عرض کی : اب صرف وہ چیز باقی رہ گئی ہے ، جسے میں نے اللہ کے رسول کے لئے سنبھال کے رکھا ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم خرچ کرو اور عرش والی ذات کی طرف سے کمی کا اندیشہ نہ کرو ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ پہلی روایت میں ایک راوی محمد بن حسن بن زبالہ اور دوسری روایت میں طلحہ بن زید قرشی ہے ، اور یہ دونوں ضعیف ہیں ۔