حدیث نمبر: 4692
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ قَالَ : دَخَلْنَا عَلَى سَعْدِ بْنِ مَسْعُودٍ نَعُودُهُ فَقَالَ : مَا أَدْرِي مَا يَقُولُونَ ؟ وَلَكِنْ لَيْتَ مَا فِي تَابُوتِي هَذَا جَمْرٌ . فَلَمَّا مَاتَ نَظَرُوا فَإِذَا فِيهِ أَلْفٌ أَوْ أَلْفَانِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

قیس بن ابوحازم بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سعد بن مسعود کی خدمت میں ان کی عیادت کرنے کے لئے حاضر ہوئے تو انہوں نے فرمایا : مجھے نہیں سمجھ آتی کہ یہ لوگ کیا کہتے ہیں لیکن اے کاش میرے تابوت میں یہ انگارے نہ ہوں جب ان کا انتقال ہو گیا اور لوگوں نے اس بات کا جائزہ لیا تو وہاں ایک ہزار یا شاید دو ہزار ( درہم یا دینار ) موجود تھے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4692
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «46 اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5408)»