حدیث نمبر: 4686
وَعَنْ سَعِيدِ بْنِ عَامِرِ بْنِ حِذْيَمٍ قَالَ : بَلَغَ عُمَرُ أَنَّهُ لَا يَدَّخِرُ فِي بَيْتِهِ مِنَ الْحَاجَةِ ، فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِعَشَرَةِ آلَافٍ ، فَأَخَذَهَا فَجَعَلَ يُفَرِّقُهَا صُرَرًا فَقَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : أَيْنَ تَذْهَبُ بِهَذِهِ ؟ قَالَ : أَذْهَبُ بِهَا إِلَى مَنْ يُرَجِّحُ لَنَا فِيهَا ، فَمَا أُبْقِي لَنَا إِلَّا شَيْئًا يَسِيرًا . فَلَمَّا نَفَدَ الَّذِي كَانَ عِنْدَهُمْ قَالَتْ لَهُ امْرَأَتُهُ : اذْهَبْ إِلَى بَعْضِ أَصْحَابِكَ الَّذِينَ أَعْطَيْتَهُمْ يُرَجِّحُونَ لَكَ فَخُذْ مِنْ أَرْبَاحِهِمْ . وَجَعَلَ يُدَافِعُهَا وَيُمَاطِلُهَا حَتَّى طَالَ ذَلِكَ فَقَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ : " لَوْ أَنَّ حَوْرَاءَ أَطْلَعَتْ أُصْبُعًا مِنْ أَصَابِعِهَا لَوَجَدَ رِيحَهَا كُلُّ ذِي رُوحٍ ، فَأَنَا أَدَعُهُنَّ لَكُنَّ ، لَا وَاللَّهِ لَأَنْتُنَّ أَحَقُّ أَنْ أَدَعَكُنَّ لَهُنَّ مِنْهُنَّ لَكُنَّ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . وَلَهُ طُرُقٌ فِي صِفَةِ الْجَنَّةِ . ¤
محمد محی الدین

سعید بن عامر بن حذیم بیان کرتے ہیں : سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو یہ اطلاع ملی کہ وہ صاحب اپنے گھر میں ضرورت کی کوئی چیز ذخیرہ نہیں کرتے ہیں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان صاحب کو دس ہزار ( درہم یا دینار ) بھجوائے انہوں نے وہ لے لیے اور انہیں مختلف تھیلوں میں ڈالنا شروع کیا ان کی اہلیہ نے ان سے دریافت کیا : آپ یہ کہاں لے کے جائیں گے انہوں نے جواب دیا : میں انہیں لے کر ان افراد کے پاس جاؤں گا ، جو ان کے بارے میں ہمارے لئے زیادہ فائدہ مند ثابت ہوں گے میں ان میں سے صرف تھوڑی سی چیز رہنے دوں گا جب وہ چیز ختم ہو گئی جو ان لوگوں کے پاس موجود تھی تو ان کی اہلیہ نے ان سے کہا: اب آپ اپنے کچھ دوستوں کے پاس جائیں جنہیں آپ نے وہ چیزیں دی تھیں جو آپ کو فائدہ دلایا کرتے تھے تو اس فائدے میں سے آپ حاصل کر لیں وہ اس خاتون کے ساتھ مسلسل بحث مباحثہ کرتے رہے یہاں تک کہ یہ بات طویل ہو گئی تو انہوں نے یہ بات ارشاد فرمائی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” اگر ایک حور اپنی ایک انگلی کو ظاہر کر دے تو اس کی خوشبو کو ہر ذی روح محسوس کرے گا ، تو کیا میں تمہارے لئے ان حوروں کو چھوڑ دوں ؟ اللہ کی قسم ! تم خواتین اس بات کی زیادہ حق دار ہو کہ میں اُن حوروں کی خاطر تمہیں چھوڑ دوں “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں جنت کی صفت سے متعلق باب میں اس کے مختلف طرق آئیں گے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4686
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5511)»