حدیث نمبر: 4687
وَعَنْ مَالِكِ الدَّارِ أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ أَخَذَ أَرْبَعَمِائَةِ دِينَارٍ ، فَجَعَلَهَا فِي صُرَّةٍ ، فَقَالَ لِلْغُلَامِ : اذْهَبْ بِهَا إِلَى أَبِي عُبَيْدَةَ بْنِ الْجَرَّاحِ ، ثُمَّ تَلِّهِ فِي الْبَيْتِ سَاعَةً حَتَّى تَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ ! فَذَهَبَ بِهَا الْغُلَامُ إِلَيْهِ فَقَالَ : يَقُولُ لَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ اجْعَلْ هَذِهِ فِي بَعْضِ حَاجَاتِكَ . فَقَالَ : وَصَلَهُ اللَّهُ وَرَحِمَهُ . ثُمَّ قَالَ : تَعَالَيْ يَا جَارِيَةُ ، اذْهَبِي بِهَذِهِ السَّبْعَةِ إِلَى فُلَانٍ ، وَبِهَذِهِ الْخَمْسَةِ إِلَى فُلَانٍ ، وَبِهَذِهِ الْخَمْسَةِ إِلَى فُلَانٍ . حَتَّى أَنْفَدَهَا . فَرَجَعَ الْغُلَامُ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ فَوَجَدَهُ قَدْ أَعَدَّ مِثْلَهَا لِمُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ فَقَالَ : اذْهَبْ بِهَا إِلَى مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ وَتَلِّهِ فِي الْبَيْتِ حَتَّى تَنْظُرَ مَا يَصْنَعُ ؟ ! فَذَهَبَ بِهَا إِلَيْهِ فَقَالَ : يَقُولُ لَكَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ : اجْعَلْ هَذِهِ فِي بَعْضِ حَاجَاتِكَ . فَقَالَ : رَحِمَهُ اللَّهُ وَوَصَلَهُ ، تَعَالَيْ يَا جَارِيَةُ ، اذْهَبِي إِلَى بَيْتِ فُلَانٍ بِكَذَا ، اذْهَبِي إِلَى بَيْتِ فُلَانٍ بِكَذَا ، فَاطَّلَعَتِ امْرَأَةُ مُعَاذٍ وَقَالَتْ : وَنَحْنُ وَاللَّهِ مَسَاكِينُ فَأَعْطِنَا . فَلَمْ يَبْقَ فِي الْخِرْقَةِ إِلَّا دِينَارَانِ فَدَحَا بِهِمَا إِلَيْهَا . وَرَجَعَ الْغُلَامُ إِلَى عُمَرَ فَأَخْبَرَهُ فَسُرَّ بِذَلِكَ وَقَالَ : إِنَّهُمْ إِخْوَةٌ بَعْضُهُمْ مِنْ بَعْضٍ . . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . وَمَالِكُ الدَّارِ لَمْ أَعْرِفْهُ وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

مالک دار بیان کرتے ہیں ؛ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے چار سو دینار لئے انہیں ایک تھیلی میں ڈالا اور غلام سے کہا: تم انہیں لے کے ابوعبیدہ بن جراح کے پاس جاؤ اور پھر اس کے گھر میں کچھ دیر تک ٹھہرے رہنا اور اس بات کا جائزہ لینا کہ وہ اس کا کیا کرتا ہے وہ غلام یہ رقم لے کے سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور یہ کہا: امیر المؤمنین نے یہ کہا: ہے : انہیں اپنی ضروریات میں خرچ کریں تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ انہیں ملا کے رکھے اور ان پر رحم کرے پھر انہوں نے فرمایا : اے لڑکی ادھر آؤ یہ سات دینار فلاں شخص کو دے آؤ یہ پانچ فلاں کو دے آؤ یہاں تک کہ انہوں نے وہ ساری رقم خرچ کر دی غلام سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آیا انہیں اس صورت حال کے بارے میں بتایا جو اس نے پائی تھی پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اتنی ہی رقم سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کے لئے تیار کروائی پھر فرمایا اسے لے کر سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کے پاس جاؤ اور اس کے پاس ٹھہرے رہنا اور اس بات کا جائزہ لینا کہ وہ کیا کرتا ہے وہ غلام اس رقم کو لے کے سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کی طرف گیا اور یہ کہا: کہ سیدنا امیر المؤمنین نے یہ آپ کی طرف بھیجا ہے ، اور یہ کہا: ہے کہ اسے اپنی ضروریات میں استعمال کریں تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے کہا: اللہ تعالی ان پر رحم کرے اور انہیں ملا کے رکھے اے لڑکی ادھر آؤ تم فلاں کے گھر میں اتی رقم فلاں کے پاس لے جاؤ اور فلاں کے گھر میں اتنی رقم لے جاؤ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نے جھانک کر یہ کہا: اللہ کی قسم ہم بھی غریب ہیں آپ ہمیں بھی کچھ دے دیں اس وقت تھیلی میں صرف دو دینار باقی بچے تھے تو سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے وہ دو دینار اس خاتون کو دے دیے وہ غلام سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس واپس آیا اور انہیں اس بارے میں بتایا تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اس بات پر خوش ہوئے اور فرمایا : یہ لوگ بھائی بھائی ہیں جو ایک دوسرے سے متعلق ہیں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ مالک دار نامی شخص سے میں واقف نہیں ہوں ، اس روایت کے بقیہ رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4687
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (33/20)»