مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْإِنْفَاقِ . باب: خرچ کرنے کا بیان
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ قَالَ : كَانَتْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - سَبْعَةُ دَنَانِيرَ وَضَعَهَا عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَلَمَّا كَانَ عِنْدَ مَرَضِهِ قَالَ : " يَا عَائِشَةُ ، ابْعَثِي بِالذَّهَبِ إِلَى عَلِيٍّ " . ثُمَّ أُغْمِيَ عَلَيْهِ ، وَشَغَلَ عَائِشَةَ مَا بِهِ حَتَّى قَالَ ذَلِكَ مِرَارًا ; كُلُّ ذَلِكَ يُغْمَى عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَيَشْغَلُ عَائِشَةَ مَا بِهِ ، فَبَعَثَ [ بِهِ ] إِلَى عَلِيٍّ ، فَتَصَدَّقَ بِهَا وَأَمْسَى رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي جَدِيدِ الْمَوْتِ لَيْلَةَ الِاثْنَيْنِ ، فَأَرْسَلَتْ عَائِشَةُ بِمِصْبَاحٍ لَهَا إِلَى امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِهَا فَقَالَتْ : أَهْدِي لَنَا فِي مِصْبَاحِنَا مِنْ عُكَّتِكِ السَّمْنَ ، فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَمْسَى فِي جَدِيدِ الْمَوْتِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قُلْتُ : وَتَأْتِي أَحَادِيثُ مِنْ نَحْوِ هَذَا فِي الزُّهْدِ إِنْ شَاءَ اللَّهُ . ¤سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سات دینار تھے جنہیں آپ نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہ کے پاس رکھوایا ہوا تھا جب آپ بیمار ہو گئے تو آپ نے فرمایا : اے عائشہ ! وہ سونا علی کے پاس بھجوا دو پھر آپ پر بے ہوشی طاری ہو گئی ۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بیماری کی وجہ سے مشغول رہیں یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے چند مرتبہ یہ کہا: ہر مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر بے ہوشی طاری ہو جاتی تھی اور سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مصروف رہتی تھیں آخر کار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دیناروں کو سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھجوا دیا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے انہیں صدقہ کر دیا تو پیر کی رات نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر طبیعت کی زیادہ خرابی کا غلبہ ہوا سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے اپنا چراغ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک زوجہ محترمہ کے ہاں بھجوایا اور یہ کہا: کہ آپ ہمارے چراغ میں اپنا کچھ تیل ڈال دیں کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طبیعت زیادہ خراب ہو گئی ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔ ( ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں ، اس نوعیت سے متعلق دیگر احادیث زہد سے متعلق باب میں آگے آئیں گی ، اگر اللہ نے چاہا ۔