مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْمُكْثِرِينَ . باب: کثرت والے لوگوں کا بیان
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " يَا أَبَا ذَرٍّ ، أَيُّ جَبَلٍ هَذَا ؟ " . قُلْتُ : أُحُدٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ . قَالَ : " وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا يَسُرُّنِي أَنَّهُ لِي قِطَعًا ذَهَبًا أُنْفِقُهُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ أَدَعُ مِنْهُ قِيرَاطًا " . قَالَ : قُلْتُ : قِنْطَارًا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " قِيرَاطًا " ، قَالَهَا ثَلَاثَ مَرَّاتٍ ثُمَّ قَالَ : [ يَا أَبَا ذَرٍّ ] ، " إِنَّمَا أَقُولُ الَّذِي هُوَ أَقَلُّ ، وَلَا أَقُولُ الَّذِي هُوَ أَكْثَرُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ سَالِمُ بْنُ أَبِي حَفْصَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” اے ابوذر ! یہ کون سا پہاڑ ہے ؟ میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! یہ احد پہاڑ ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے دست قدرت میں میری جان ہے مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ میرے پاس سونے کا ٹکڑا ہو جسے میں اللہ کی راہ میں خرچ کروں پھر اس میں سے ایک قیراط چھوڑ دوں میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ایک قنطار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ایک قیراط یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ، پھر آپ نے فرمایا : اے ابوذر ! میں وہ بات بیان کرتا ہوں ، جو سب سے کم ہے ، میں وہ نہیں کہتا ہوں جو سب سے زیادہ ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سالم بن ابوحفصہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔