مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْمُكْثِرِينَ . باب: کثرت والے لوگوں کا بیان
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ " . قَالُوا : إِلَّا مَنْ ؟ قَالَ : " هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ " . قَالُوا : إِلَّا مَنْ ؟ قَالَ : " هَلَكَ الْمُكْثِرُونَ " . قَالُوا : إِلَّا مَنْ ؟ قَالَ : حَتَّى خِفْنَا أَنْ تَكُونَ قَدْ وَجَبَتْ . قَالَ : " إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا وَهَكَذَا ، وَقَلِيلٌ مَا هُمْ " . ¤ قُلْتُ : رَوَاهُ ابْنُ مَاجَهْ بِاخْتِصَارٍ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ عَطِيَّةُ بْنُ سَعِيدٍ ، وَفِيهِ كَلَامٌ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” ( مال کی ) کثرت والے لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے لوگوں نے عرض کی : البتہ کس شخص کا معاملہ مختلف ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کثرت والے لوگ ہلاکت کا شکار ہو گئے لوگوں نے عرض کی : البتہ کس کا معاملہ مختلف ہے راوی بیان کرتے ہیں : یہاں تک کہ ہمیں یہ اندیشہ ہوا کہ ( یہ بات ) واجب ہو جائے گی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو اس طرح اور اس طرح اور اس طرح کرے ( یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرے ) اور ایسے لوگ کم ہیں “ ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : یہ روایت امام ابن ماجہ نے اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کی سند میں ایک راوی عطیہ بن سعید ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔