حدیث نمبر: 4670
وَعَنْ أَبِي السَّلِيلِ قَالَ : وَقَفَ عَلَيْنَا رَجُلٌ فِي مَجْلِسِنَا بِالْبَقِيعِ فَقَالَ : حَدَّثَنِي أَبِي أَوْ عَمِّي أَنَّهُ رَأَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِالْبَقِيعِ ، وَهُوَ يَقُولُ : " مَنْ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ أَشْهَدُ لَهُ بِهَا يَوْمَ الْقِيَامَةِ " . قَالَ : فَحَلَلْتُ مِنْ عِمَامَتِي فَجَاءَ لَوْثًا أَوْ لَوْثَيْنِ ، وَأَنَا أُرِيدُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِمَا فَأَدْرَكَنِي مَا يُدْرِكُ بَنِي آدَمَ فَعَقَدْتُ عَلَيَّ عِمَامَتِي فَجَاءَ رَجُلٌ وَلَمْ أَرَ رَجُلًا بِالْبَقِيعِ أَشَدَّ سَوَادًا [ أَصْفَرَ ] مِنْهُ ، وَلَا آدَمَ ،يَعِيرُ نَاقَةٍ لَمْ أَرَ بِالْبَقِيعِ نَاقَةً أَحْسَنَ مِنْهَا ، فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَصَدَقَةٌ ؟ قَالَ : " نَعَمْ " . قَالَ : دُونَكَ هَذِهِ النَّاقَةَ . قَالَ : فَلَمَزَهُ رَجُلٌ فَقَالَ : هَذَا يَتَصَدَّقُ بِهَذِهِ ، فَوَاللَّهِ لَهِيَ خَيْرٌ مِنْهُ . فَسَمِعَهَا النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " كَذَبْتَ ، بَلْ هُوَ خَيْرٌ مِنْكَ وَمِنْهَا " - ثَلَاثَ مَرَّاتٍ - ثُمَّ قَالَ : " وَيْلٌ لِأَصْحَابٍ الْمِئِينِ مِنَ الْإِبِلِ " [ ثَلَاثًا ] . قَالُوا : إِلَّا مَنْ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا " ، وَجَمَعَ بَيْنَ كَفَّيْهِ عَنْ يَمِينِهِ ، وَعَنْ شِمَالِهِ ، ثُمَّ قَالَ : " قَدْ أَفْلَحَ الْمُجْهِدُ الْمُزْهِدُ " - ثَلَاثًا - " الْمُزْهِدُ فِي الْعَيْشِ الْمُجْهِدُ فِي الْعِبَادَةِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤
محمد محی الدین

ابوسلیل بیان کرتے ہیں : ایک شخص بقیع میں ہماری محفل کے پاس آ کر ہمارے پاس ٹھہرا اس نے کہا: میرے والد نے یا شاید میرے چچا نے مجھے یہ بات بیان کی ہے کہ انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو بقیع میں دیکھا آپ یہ ارشاد فرما رہے تھے : جو شخص کوئی چیز صدقہ کرے گا اس کی وجہ سے قیامت کے دن میں اس کے حق میں گواہی دوں گا وہ صاحب بیان کرتے ہیں : میں نے اپنا عمامہ کھولا ، ابھی ایک یا دو ہی پیچ کھولے تھے ، میں اس کو صدقہ کرنا چاہتا تھا ، لیکن پھر میرے من میں وہی چیز آ گئی ، جو اولاد آدم کے من میں آ جاتی ہے ، تو میں نے اپنا عمامہ دوبارہ باند لیا ، پھر ایک شخص آیا میں نے بقیع میں اس سے زیادہ سیاہ رنگ کا شخص یا گندمی رنگ کا شخص نہیں دیکھا تھا وہ اپنی اونٹنی لے کے آیا میں نے بقیع میں اس سے زیادہ خوبصورت اونٹنی کوئی نہیں دیکھی تھی ، اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا میں صدقہ کر دوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ۔ اس نے عرض کی : آپ یہ اونٹنی لے لیں تو ایک شخص نے اسے ٹہوکا دیا اور کہا: یہ شخص تو یہ اونٹنی صدقہ کر رہا ہے اللہ کی قسم یہ اونٹنی تو اس سے زیادہ بہتر ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات سن لی تو ارشاد فرمایا تم نے غلط کہا: ہے بلکہ وہ تم سے اور اس سے زیادہ بہتر ہے ، یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ان لوگوں کے لئے بربادی ہے ، جن کے پاس دو سو اونٹ ہوں یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی لوگوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! البتہ کس شخص کا معاملہ مختلف ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو اس طرح اور اس طرح کرتا ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دونوں ہتھیلیاں ملا کے اس طرح اشارہ کیا ( یعنی اللہ کی راہ میں خرچ کرتا ہے ) پھر آپ نے ارشاد فرمایا : ” کوشش کرنے والے اور زہد اختیار کرنے والے کامیاب ہو گئے “ ۔ یہ بات آپ نے تین مرتبہ ارشاد فرمائی ۔ زہد اختیار کرنے سے مراد زندگی کے معاملات میں زہد اختیار کرنا ہے ، اور کوشش کرنے سے مراد عبادت میں اہتمام کرنا ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4670
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه احمد فى المسند (34/5)»