حدیث نمبر: 4656
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ أَنَّهُ قَالَ : خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فِي أَضْحَى ، أَوْ فِطْرٍ ، فَصَلَّى ، ثُمَّ انْصَرَفَ ، فَوَعَظَ النَّاسَ ، وَأَمَرَهُمْ بِالصَّدَقَةِ ، وَقَالَ : " يَا أَيُّهَا النَّاسُ تَصَدَّقُوا " . ثُمَّ انْصَرَفَ فَمَرَّ عَلَى النِّسَاءِ ، فَقَالَ لَهُنَّ : " تَصَدَّقْنَ فَإِنِّي رَأَيْتُكُنَّ أَكْثَرَ أَهْلِ النَّارِ " . فَقُلْنَ : بِمَ ذَاكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " إِنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ اللَّعْنَ ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ ، مَا رَأَيْتُ مِنْ نَاقِصَاتِ عَقْلٍ وَدِينٍ أَذْهَبَ لِقَلْبِ الرَّجُلِ الْحَازِمِ مِنْ إِحْدَاكُنَّ ، يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ " . فَقُلْنَ : مَا نُقْصَانُ عَقْلِهَا وَدِينِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " أَلَيْسَ شَهَادَةُ الْمَرْأَةِ بِنِصْفِ شَهَادَةِ الرَّجُلِ ؟ فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ عَقْلِهَا . أَلَيْسَ إِذَا حَاضَتِ الْمَرْأَةُ لَمْ تُصَلِّ ؟ " . قُلْنَ : بَلَى . قَالَ : " فَذَلِكَ مِنْ نُقْصَانِ دِينِهَا " . قَالَ : ثُمَّ انْصَرَفَ فَلَمَّا صَارَ إِلَى مَنْزِلِهِ جَاءَتْهُ امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْهِ ، فَقِيلَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، هَذِهِ زَيْنَبُ تَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ . قَالَ : " أَيُّ الزَّيَانِبُ ؟ " . قِيلَ : امْرَأَةُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ . قَالَ : " ائْذَنْ لَهَا " . فَأَذِنَ لَهَا فَقَالَتْ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، إِنَّكَ أَمَرْتَنَا الْيَوْمَ بِالصَّدَقَةِ ، وَعِنْدِي حُلِيٌّ لِي ، فَأَرَدْتُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِهِ فَزَعْمَ ابْنُ مَسْعُودٍ أَنَّهُ هُوَ وَوَلَدُهُ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتُ بِهِ عَلَيْهِمْ ، فَقَالَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " صَدَقَ ابْنُ مَسْعُودٍ ، زَوْجُكِ وَوَلَدُكِ أَحَقُّ مَنْ تَصَدَّقْتِ بِهِ عَلَيْهِمْ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم عیدالاضحی یا شاید عیدالفطر کے دن نکلے آپ نے نماز پڑھائی جب آپ نماز پڑھ کر فارغ ہوئے تو آپ نے لوگوں کو وعظ و نصیحت کی اور انہیں صدقہ کرنے کا حکم دیا آپ نے ارشاد فرمایا : اے لوگو ! صدقہ کرو پھر آپ وہاں سے مڑے اور خواتین کے پاس سے گزرے آپ نے ان سے فرمایا تم صدقہ کرو کیونکہ میں نے اہل جہنم میں اکثریت تمہاری ( یعنی خواتین کی ) دیکھی ہے خواتین نے دریافت کیا : یا رسول اللہ ! اس کی وجہ کیا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیونکہ تم بکثرت لعنت کرتی ہو ، اور شوہر کی ناشکری کرتی ہو میں نے عقل اور دین کے اعتبار سے ناقص ایسی کوئی مخلوق نہیں دیکھی جو تم میں سے کسی ایک سے زیادہ جلدی کسی سمجھ دار شخص کے دل کو لے جائے اے خواتین کے گروہ ! خواتین نے عرض کی : یا رسول اللہ ! عورت کے عقل اور دین میں کیا کمی ہوتی ہے ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : کیا عورت کی گواہی مرد کی گواہی کا نصف نہیں ہوتی ہے تو یہ اس کے عقل کی کمی کی وجہ سے ہے کیا جب عورت کو حیض آتا ہے وہ نماز ادا نہیں کرتی ہم نے عرض کی : جی ہاں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : یہ اس کے دین میں کمی ہے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم وہاں سے تشریف لے گئے یہاں تک کہ اپنے گھر آ گئے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوئی انہوں نے اندر آنے کی اجازت مانگی عرض کی گئی : یا رسول اللہ ! سیدہ زینب رضی اللہ عنہا اندر آنے کی اجازت مانگ رہی ہیں ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کون سی زینب عرض کی گئی : سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے اجازت دے دو آپ نے اسے اجازت دی تو اس خاتون نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آج آپ نے ہمیں صدقہ کرنے کا حکم دیا میرے پاس زیور تھا ۔ میں نے اس کو صدقہ کرنے کا ارادہ کیا ، تو سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا یہ خیال تھا کہ وہ اور ان کی اولاد اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ میں ان پر صدقہ کروں تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ابن مسعود نے ٹھیک کہا: ہے تمہارا شوہر اور تمہاری اولاد اس بات کے زیادہ حق دار ہیں کہ تم ان پر صدقہ کرو“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4656
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه البزار فى المسند (950)»