مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ الصَّدَقَةِ عَلَى الْأَقَارِبِ وَصَدَقَةِ الْمَرْأَةِ عَلَى زَوْجِهَا . باب: قریبی رشتہ داروں کو صدقہ کرنا ، عورت کا اپنے شوہر کو صدقہ کرنا
وَعَنْ رَائِطَةَ امْرَأَةِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ وَأُمِّ وَلَدِهِ ، وَكَانَتِ امْرَأَةً صَنَاعَ الْيَدِ . قَالَ : فَكَانَتْ تُنْفِقُ عَلَيْهِ وَعَلَى وَلَدِهِ مِنْ صَنْعَتِهَا قَالَتْ : فَقُلْتُ لِعَبْدِ اللَّهِ : لَقَدْ شَغَلْتَنِي أَنْتَ وَوَلَدُكَ عَنِ الصَّدَقَةِ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ مَعَكُمْ بِشَيْءٍ ؟ فَقَالَ لَهَا عَبْدُ اللَّهِ : وَاللَّهِ مَا أُحِبُّ إِنْ لَمْ يَكُنْ لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرٌ أَنْ تَفْعَلِي ! ! فَأَتَتْ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنِّي امْرَأَةٌ ذَاتُ صَنْعَةٍ أَبِيعُ مِنْهَا وَلَيْسَ لِي وَلَا لِوَلَدِي وَلَا لِزَوْجِي نَفَقَةٌ غَيْرُهَا ، وَقَدْ شَغَلُونِي عَنِ الصَّدَقَةِ فَمَا أَسْتَطِيعُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِشَيْءٍ فَهَلْ لِي فِي ذَلِكَ مِنْ أَجْرٍ فِيمَا أَنْفَقْتُ عَلَيْهِمْ ؟ فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَنْفِقِي عَلَيْهِمْ فَإِنَّ لَكِ فِي ذَلِكَ أَجْرَ مَا أَنْفَقْتِ عَلَيْهِمْ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ ابْنُ إِسْحَاقَ ، وَهُوَ مُدَلِّسٌ ، وَلَكِنَّهُ ثِقَةٌ ، وَقَدْ تُوبِعَ . ¤سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی اہلیہ اور ان کی ام ولد سیدہ رائطہ رضی اللہ عنہ کے بارے میں منقول ہے : وہ ایک ایسی خاتون تھی جو دست کاری جانتی تھیں راوی بیان کرتے ہیں : وہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ اور ان کی اولاد پر اپنی آمدن خرچ کیا کرتی تھیں وہ بیان کرتی ہیں : میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ نے اور آپ کے بچوں نے مجھ کو صدقہ کرنے سے روکا ہوا ہے آپ لوگوں کے ہمراہ میں کوئی چیز صدقہ نہیں کر پاتی ہوں تو سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہ نے ان سے فرمایا اللہ کی قسم مجھے یہ بات پسند نہیں ہے کہ اگر تمہیں اس میں اجر نہ ملتا ہوتا تو تمہیں ایسا کرنا پڑتا وہ خاتون نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میں کام کاج کرنے والی عورت ہوں جسے میں فروخت کر دیتی ہوں میرے لئے اور میرے بچوں کے لئے اور میرے شوہر کے لئے اس آمدن کے علاوہ کوئی خرچ کا ذریعہ نہیں ، لیکن ان لوگوں کی وجہ سے میں صدقہ نہیں کر پاتی ہوں کہ کوئی چیز صدقہ کر دوں تو کیا مجھے اس چیز کے حوالے سے اجر ملے گا ، جو میں ان پر خرچ کرتی ہوں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خاتون سے فرمایا : ” تم ان پر خرچ کرو کیونکہ تم ان پر جو خرچ کرو گی تمہیں اس پر اجر ملے گا“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن اسحاق ہے ، اور وہ تدلیس کرنے والا ہے لیکن ” ثقہ “ ہے اس کی متابعت کی گئی ہے ۔