حدیث نمبر: 4657
وَعَنْ جَمْرَةَ بِنْتِ قُحَافَةَ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَقُولُ فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ : " يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ ، تَصَدَّقْنَ وَلَوْ مِنْ حُلِيِّكُنَّ ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ أَهْلِ النَّارِ " . فَأَتَتْ زَيْنَبُ فَقَالَتْ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، زَوْجِي مُحْتَاجٌ فَهَلْ يَجُوزُ لِي أَنْ أُعُودَ عَلَيْهِ ؟ قَالَ : " نَعَمْ ، لَكِ أَجْرَانِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْحَسَنُ بْنُ عَازِبٍ ; وَلَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ جمرہ بنت قحافہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : حجتہ الوداع کے موقع پر میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” اے خواتین کے گروہ تم صدقہ کرو خواہ اپنے زیور ہی کر دو کیونکہ اہل جہنم میں اکثریت تمہاری ہے سیدہ زینب رضی اللہ عنہا آئیں انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے شوہر محتاج ہیں تو کیا میرے لئے یہ بات جائز ہو گی کہ میں ان کی مدد کروں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی ہاں ! ۔ اس طرح تمہیں دگنا اجر ملے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی حسن بن عازب ہے میں نے کسی کو اس کے حالات بیان کرتے ہوئے نہیں پایا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4657
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (210/24)»