حدیث نمبر: 465
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَمِّي هِشَامَ بْنَ الْمُغِيرَةِ كَانَ يُطْعِمُ الطَّعَامَ ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ ، وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ ، فَلَوْ أَدْرَكَكَ أَسْلَمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُعْطِي لِلدُّنْيَا وَحَمْدِهَا وَذِكْرِهَا ، وَمَا قَالَ يَوْمًا قَطُّ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا چچا ہشام بن مغیرہ کھانا کھلایا کرتا تھا ، صلہ رحمی کرتا تھا ، یہ کرتا تھا ، اور وہ کرتا تھا ، اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پا لیتا تو وہ مسلمان بھی ہو جاتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ دنیا کے لیے دنیا کی تعریف کے لیے ، دنیا میں چرچے کے لئے دیا کرتا تھا ، اُس نے کبھی ایک دن بھی یہ نہیں کہا: اے اللہ : قیامت کے دن میری خطاؤں کی مغفرت کر دینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 465
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرج الامام ابو يعلى فى مسنده 6929 اورده المؤلف فى المقصد العلي 54»