مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ . باب: اہل جاہلیت کا بیان
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تَحُثُّ عَلَى صِلَةِ الرَّحِمِ ، وَالْإِحْسَانِ إِلَى الْجَارِ ، وَإِيوَاءِ الْيَتِيمِ ، وَإِطْعَامِ الضَّيْفِ ، وَإِطْعَامِ الْمِسْكِينِ ، وَكُلُّ هَذَا كَانَ يَفْعَلُهُ هِشَامُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، فَمَا ظَنُّكَ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ قَبْرٍ لَا يَشْهَدُ صَاحِبُهُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَهُوَ جَذْوَةٌ مِنَ النَّارِ ، وَقَدْ وَجَدْتُ عَمِّي أَبَا طَالِبٍ فِي طِمْطَامٍ مِنَ النَّارِ ، فَأَخْرَجَهُ اللَّهُ لِمَكَانِهِ مِنِّي وَإِحْسَانِهِ إِلَيَّ ، فَجَعَلَهُ فِي ضِحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ لَا يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِهِ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : ” حارث بن ہشام ، حجۃ الوداع کے دن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : یا رسول اللہ ! آپ صلہ رحمی کرنے ، پڑوسی کے ساتھ اچھائی کرنے ، یتیم کی دیکھ بھال کرنے ، مہمان کو کھانا کھلانے ، غریب کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہیں ، تو یہ سب کام تو ( میرے والد ) ہشام بن مغیرہ بھی کیا کرتے تھے ، یا رسول اللہ ! ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس بھی قبر والا ( یعنی مرنے والوں میں سے جو بھی ) شخص اس بات کی گواہی نہیں دیتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے تو وہ قبر جہنم کا ٹکڑا ہو گی ، میں نے اپنے چچا جناب ابوطالب کو جہنم کے سب سے گہرے حصے میں پایا ، اُن کی مجھ سے نسبت اور ان کے میرے ساتھ اچھے سلوک کی وجہ سے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس مقام سے نکالا اور اُنہیں جہنم کے اوپر والے حصے میں رکھ دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، جو منکر الحدیث ہے ، لوگ اس کی حدیث سے استدلال نہیں کرتے ہیں ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔