کتب حدیثمجمع الزوائد ومنبع الفوائدابوابباب: اہل جاہلیت کا بیان
حدیث نمبر: 453
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَسْعُودٍ عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " إِنَّ أَوَّلَ مَنْ سَيَّبَ السَّوَائِبَ وَعَبَدَ الْأَصْنَامَ : أَبُو خُزَاعَةَ عَمْرُو بْنُ عَامِرٍ ، وَإِنِّي رَأَيْتُهُ يَجُرُّ أَمْعَاءَهُ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ إِبْرَاهِيمُ الْهَجَرِيُّ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” سب سے پہلے بتوں کے نام پر جانور مخصوص کرنے اور بتوں کی عبادت کرنے کا آغاز ، خزاعہ کے جدامجد عمرو بن عامر نے کیا تھا ، میں نے اُسے دیکھا ہے کہ وہ جہنم میں اپنی آنتیں گھسیٹ رہا تھا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی ابراہیم ہجری ہے اور وہ ضعیف ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 453
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف۔
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسئد 157»
حدیث نمبر: 454
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " أَوَّلُ مَنْ غَيَّرَ دِينَ إِبْرَاهِيمَ عَمْرُو بْنُ لُحَيِّ بْنِ قَمْعَةَ بْنِ خِنْدِفَ أَبُو خُزَاعَةَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ صَالِحٌ مَوْلَى التَّوْأَمَةِ ، وَضَعَّفَهُ بِسَبَبِ اخْتِلَاطِهِ ، وَابْنُ أَبِي ذِئْبٍ سَمِعَ مِنْهُ قَبْلَ الِاخْتِلَاطِ ، وَهَذَا مِنْ رِوَايَةِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ عَنْهُ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” سیدنا ابراہیم علیہ السلام کے دین میں ، سب سے پہلے جس شخص نے تبدیلی کی ، وہ عمرو بن لحی بن قمعہ بن خندف ہے ، جو خزاعہ کا جدامجد ہے “
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر اور معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی صالح مولی توامہ ہے ، جس کے اختلاط کی وجہ سے اسے ضعیف قرار دیا گیا ہے ، لیکن ابن ابوذئب نے اُس کے اختلاط کا شکار ہونے سے پہلے اس سے سماع کیا تھا اور
یہ روایت بھی ان روایات میں سے ایک ہے ، جو ابن ابوذئب نے اُس سے نقل کی ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 454
درجۂ حدیث محدثین: إسناده حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 298/10 ح 10808 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الأوسط 201»
حدیث نمبر: 455
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَدَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَتْ : أَنْتَ الَّذِي تُحَدِّثُ أَنَّ امْرَأَةً عُذِّبَتْ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا ، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْهُ - يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : هَلْ تَدْرِي مَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ ؟ إِنَّ الْمَرْأَةَ مَعَ مَا فَعَلَتْ كَانَتْ كَافِرَةً ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ أَنْ يُعَذِّبَهُ فِي هِرَّةٍ ، فَإِذَا حَدَّثْتَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
علقمہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آئے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا تم یہ حدیث بیان کرتے ہو ؟ کہ ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا ، جس بلی کو اُس نے باندھ دیا تھا وہ عورت اُسے کچھ کھانے کے لیے نہیں دیتی تھی ، اور پینے کے لئے نہیں دیتی تھی ، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : یہ بات میں نے اُن سے سنی ہے ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ وہ عورت کون تھی ؟ اُس عورت نے جو کچھ بھی کیا ، اُس کے ہمراہ وہ کافر بھی تھی ، اور مومن ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس سے بلند حیثیت رکھتا ہے ، کہ اللہ تعالیٰ کسی بلی کی وجہ سے اُسے عذاب دے ، جب تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرو ! تو اس بات کا جائزہ لے لیا کرو ! کہ تم کیا بیان کر رہے ہو ؟
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 455
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسند 162»
حدیث نمبر: 456
وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ عَنْ عَمِّهِ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ أُمِّي ؟ قَالَ : " أُمُّكَ فِي النَّارِ " . قَالَ : قُلْتُ : فَأَيْنَ مَنْ مَضَى مِنْ أَهْلِكَ ؟ قَالَ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ أُمُّكَ مَعَ أُمِّي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
ابورزین عقیلی ، اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری والدہ کہاں ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تمہاری والدہ جہنم میں ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : آپ کے اہل خانہ میں سے جو لوگ ( دنیا سے ) رخصت ہو چکے ہیں ، وہ کہاں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری ماں ، میری ماں کے ساتھ ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کو امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 456
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 11/4 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 208/19 اورده المؤلف فى زوائد المسند 156»
حدیث نمبر: 457
وَعَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : كُنَّا مَعَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَنَزَلَ وَنَحْنُ مَعَهُ قَرِيبٌ مِنْ أَلْفِ رَاكِبٍ ، فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ وَعَيْنَاهُ تَذْرِفَانِ ، فَقَامَ إِلَيْهِ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ فَفَدَّاهُ بِالْأُمِّ وَالْأَبِ يَقُولُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَالَكَ ؟ قَالَ : " إِنِّي سَأَلْتُ رَبِّي - عَزَّ وَجَلَّ - فِي الِاسْتِغْفَارِ لِأُمِّي ، فَلَمْ يَأْذَنْ لِي ، فَدَمَعَتْ عَيْنَايَ رَحْمَةً لَهَا مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ " . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ( سفر کر رہے تھے ) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک جگہ پڑاؤ کیا ، آپ کے ساتھ ہم لوگ تقریبا ایک ہزار سوار تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دو رکعت ادا کیں ، پھر آپ نے ہماری طرف رخ کیا ، تو آپ کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے ، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اُٹھ کر آپ کے پاس آئے اور یہ کہا: میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اور دریافت کیا : یا رسول اللہ ! آپ کو کیا ہوا ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اپنے پروردگار سے اپنی والدہ کے لئے دعائے مغفرت کی اجازت مانگی تھی ، تو اس نے مجھے اجازت نہیں دی ، تو اُس خاتون کے لیے رحمت کی وجہ سے میری آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے کہ وہ جہنم میں جائیں گی ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 457
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 355/5 إورده المؤلف فى زوائد المسند 159»
حدیث نمبر: 458
عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنَّا بِوَدَّانَ أَوْ بِالْقُبُورِ سَأَلَ الشَّفَاعَةَ لِأُمِّهِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - فَضَرَبَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَدْرَهُ ، وَقَالَ : لَا تَسْتَغْفِرْ لِمَنْ مَاتَ مُشْرِكًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ . قُلْتُ : وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ مُحَمَّدَ بْنَ جَابِرٍ هَذَا . ¤
محمد محی الدین
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، یہاں تک کہ ہم ” ودان “ کے مقام پر پہنچے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) کچھ قبروں کے پاس پہنچے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کے لئے شفاعت کی دعا کی ( راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر ہاتھ مارا ، اور وہ بولے : آپ اُس کے لیے دعائے مغفرت نہ کریں ، جو مشرک ہونے کے عالم میں مر گیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں ، اس سند کے ساتھ ، اس روایت کو صرف محمد بن جابر نے سماک بن حرب سے نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی شخص کو محمد بن جابر نامی اس راوی کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 458
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «أورده المؤلف فى كشف الاستار 96»
حدیث نمبر: 459
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَقْبَلَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ وَاعْتَمَرَ ، فَلَمَّا هَبَطَ مِنْ ثَنِيَّةِ عُسْفَانَ ، أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَسْتَسْنِدُوا إِلَى الْعَقَبَةِ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكُمْ ، فَذَهَبَ فَنَزَلَ عَلَى قَبْرِ أُمِّهِ ، فَنَاجَى رَبَّهُ طَوِيلًا ، ثُمَّ إِنَّهُ بَكَى فَاشْتَدَّ بُكَاؤُهُ وَبَكَى هَؤُلَاءِ لِبُكَائِهِ ، وَقَالُوا : مَا بَكَى نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَذَا الْمَكَانِ إِلَّا وَقَدْ حَدَثَ فِي أُمَّتِهِ شَيْءٌ لَا يُطِيقُهُ ، فَلَمَّا بَكَى هَؤُلَاءِ ، قَامَ فَرَجَعَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكُمْ ؟ " قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، بَكَيْنَا لِبُكَائِكَ ، قُلْنَا : لَعَلَّهُ حَدَثَ فِي أُمَّتِكَ شَيْءٌ لَا تُطِيقُهُ ، قَالَ : " لَا ، وَقَدْ كَانَ بَعْضُهُ ، وَلَكِنْ نَزَلْتُ عَلَى قَبْرٍ ، فَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يَأْذَنَ لِي فِي شَفَاعَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَأَبَى اللَّهُ أَنْ يَأْذَنَ لِي ، فَرَحِمْتُهَا وَهِيَ أُمِّي فَبَكَيْتُ ، ثُمَّ جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ : " وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ " ، فَتَبْرَأْ مِنْ أُمِّكَ كَمَا تَبَرَّأَ إِبْرَاهِيمُ مِنْ أَبِيهِ ، فَرَحِمْتُهَا وَهِيَ أُمِّي ، فَدَعَوْتُ رَبِّي أَنْ يَرْفَعَ عَنْ أُمَّتِي أَرْبَعًا فَرَفَعَ عَنْهُمُ اثْنَتَيْنِ ، وَأَبَى أَنْ يَرْفَعَ عَنْهُمُ اثْنَتَيْنِ : دَعَوْتُ رَبِّي أَنْ يَرْفَعَ عَنْهُمُ الرَّجْمَ مِنَ السَّمَاءِ ، وَالْغَرَقَ مِنَ الْأَرْضِ ، وَأَنْ لَا يُلْبِسَهُمْ شِيَعًا ، وَأَنْ لَا يُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ ، فَرَفَعَ عَنْهُمُ الرَّجْمَ مِنَ السَّمَاءِ ، وَالْغَرَقَ مِنَ الْأَرْضِ ، وَأَبَى اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ عَنْهُمُ اثْنَتَانِ : الْقَتْلُ وَالْهَرْجُ " . وَإِنَّمَا عَدَلَ إِلَى قَبْرِ أُمِّهِ ; لِأَنَّهَا مَدْفُونَةٌ تَحْتَ كَذَا وَكَذَا ، وَكَانَ عُسْفَانَ لَهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَعَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْمُنِيبِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، وَمَنْ عَدَا عِكْرِمَةَ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے اور عمرہ کے لیے روانہ ہوئے ، تو جب ” عسفان “ نامی گھاٹی کے پاس پہنچے ، تو آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ گھاٹی کے ساتھ ٹیک لگا کر رکھیں جب تک میں تم لوگوں کے پاس وقت نہیں آ جاتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور اپنی والدہ کی قبر کے پاس ٹھہرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں طویل مناجات کی ، پھر آپ رونے لگے اور بہت روئے ، یہاں تک کہ آپ کے رونے کی وجہ سے ، دوسرے لوگ بھی رونے لگے ، لوگوں نے دریافت کیا : اللہ کے نبی اس مقام پر کیوں روئے ہیں ؟ اس کی وجہ یہی ہو گی کہ آپ کی امت کے بارے میں کوئی ایسی چیز سامنے آئی ہو گی کہ آپ کو خود پر ق ابونہیں رہا ، جب لوگوں نے بھی رونا شروع کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے اور اُن لوگوں کے پاس واپس تشریف لائے ، تو آپ نے دریافت کیا : تم لوگ کیوں رو رہے ہو ؟ اُن لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ کے رونے کی وجہ سے ہم بھی رو رہے ہیں ، ہم نے کہا: ہم یہ سمجھے کہ شاید آپ کی امت کے بارے میں کوئی نئی چیز رونما ہوئی ہے ، جس کی آپ طاقت نہیں رکھتے ( یا جسے دیکھ کر آپ کو خود پر ق ابونہیں رہا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! ( یعنی ایسا نہیں ہے ) لیکن اس کا کچھ حصہ ہے ، میں اس قبر کے پاس آیا میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ قیامت کے دن مجھے اُن کی شفاعت کرنے کی اجازت دے ، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دینے سے انکار کر دیا ، تو مجھے اس خاتون پر رحم آ گیا ، کیونکہ وہ میری والدہ ہیں ، تو میں رونے لگ گیا پھر جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : ( یعنی اُنہوں نے یہ آیات تلاوت کیں : ) ” ابراہیم نے اپنے باپ کے لئے جو استغفار کیا تھا ، وہ صرف ایک وعدے کی وجہ سے تھا ، جو اُس نے اس شخص کے ساتھ کیا تھا ، لیکن جب اُس ( یعنی ابراہیم ) کے سامنے یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ شخص ، اللہ کا دشمن ہے ، تو اُس ( یعنی ابراہیم نے ) اس شخص سے لاتعلقی اختیار کی “ ۔ ( سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی والدہ سے اُسی طرح لاتعلقی اختیار کریں ، جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے لاتعلقی اختیار کی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو مجھے اُن پر رحم آ گیا کیونکہ وہ میری والدہ ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ) میں نے اپنے پروردگار سے دعا مانگی کہ وہ میری امت سے چار چیزیں اُٹھا لے ، تو اُس نے اُن لوگوں سے دو چیزیں اٹھا لیں ، اور دو چیزیں اُن سے اُٹھانے سے انکار کر دیا ، میں نے اپنے پروردگار سے دعا کی : کہ وہ اُن سے یہ اُٹھا لے کہ انہیں آسمان سے سنگسار کیا جائے ، یا انہیں زمین میں ڈبو ( یعنی دھنسا ) دیا جائے ( اور یہ دعا مانگی : ) کہ اللہ تعالیٰ انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم نہ کرے ، اور انہیں ایک دوسرے کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے ، تو اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ چیز اٹھا لی کہ انہیں آسمان سے سنگسار کیا جائے ، یا زمین میں پھنسایا جائے ، اور اللہ تعالیٰ نے اُن سے دو چیزیں اٹھانے سے انکار کر دیا ، قتل اور ہرج ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کی قبر پر جانے کے لیے عام گزرگاہ سے ہٹ گئے تھے ، کیونکہ آپ کی والدہ فلاں جگہ پر دفن تھیں ، اور یہ ” عسفان “ کے مقام کی بات ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے ابودرداء اور عبدالغفار بن غنیم نامی راویوں نے اسحاق بن عبداللہ کے حوالے سے ، اُن کے والد کے حوالے سے ، عکرمہ سے روایت کیا ہے ، لیکن عکرمہ کے علاوہ باقی راویوں میں سے میں کسی سے واقف نہیں ہوں ، اور نہ ہی میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 459
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 12049»
حدیث نمبر: 460
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ أَنَّ أَبَاهُ الْحُصَيْنَ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَرَأَيْتَ رَجُلًا كَانَ يُقْرِي الضَّيْفَ وَيَصِلُ الرَّحِمَ مَاتَ قَبْلَكَ ، وَهُوَ أَبُوكَ ؟ فَقَالَ : إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ وَأَنْتَ فِي النَّارِ " فَمَاتَ حُصَيْنٌ مُشْرِكًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے : اُن کے والد حصین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور بولے : اپنے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ جو مہمان نوازی اور صلہ رحمی کرتا تھا ، اور اُس کا انتقال آپ سے پہلے ہو گیا اور وہ شخص آپ کا والد ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرا باپ ، تمہارا باپ اور تم جہنم میں ہو گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو حصین کا انتقال مشرک ہونے کے عالم میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 460
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 3552»
حدیث نمبر: 461
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - : أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ أَبِي ؟ قَالَ : " فِي النَّارِ " قَالَ : فَأَيْنَ أَبُوكَ ؟ قَالَ : " حَيْثُمَا مَرَرْتَ بِقَبْرِ كَافِرٍ ، فَبَشِّرْهُ بِالنَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَزَادَ : فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ ، فَقَالَ : لَقَدْ كَلَّفَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَنَاءٍ ، مَا مَرَرْتُ بِقَبْرِ كَافِرٍ إِلَّا بَشَّرْتُهُ بِالنَّارِ " . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: یا رسول اللہ ! میرا باپ کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا : جہنم میں ، اُس نے دریافت کیا : آپ کے والد کہاں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جب بھی کسی کافر کی قبر کے پاس سے گزرو ، تو اسے جہنم کی اطلاع دے دینا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اُس دیہاتی نے اطلاع قبول کر لیا ، اُس کا یہ کہنا تھا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک مشقت والے کام کا پابند کیا ہے ، میں جب بھی کسی کافر کی قبر کے پاس سے گزرتا ہوں ، تو اُسے جہنم کی اطلاع دے دیتا ہوں “ ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 461
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 93»
حدیث نمبر: 462
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيَأْخُذَنَّ رَجُلٌ بِيَدِ أَبِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَلَيُقْطِعَنَّهُ نَارًا ، يُرِيدُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، قَالَ : فَيُنَادَى أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا مُشْرِكٌ ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ الْجَنَّةَ عَلَى كُلِّ مُشْرِكٍ ، قَالَ : فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَبِي . قَالَ : فَيَتَحَوَّلُ فِي صُورَةٍ قَبِيحَةٍ وَرِيحٍ مُنْتِنَةٍ ، فَيَتْرُكُهُ " قَالَ : وَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ يَرَوْنَ أَنَّهُ إِبْرَاهِيمُ ، وَلَمْ يَزِدْهُمْ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن ، ایک شخص اپنے باپ کا ہاتھ پکڑے گا ، تاکہ اسے جہنم میں جانے سے روک لے ، وہ یہ ارادہ کرے گا : کہ اُسے جنت میں داخل کرے ، تو یہ اعلان کیا جائے گا : جنت میں کوئی مشرک داخل نہیں ہو گا ، بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر مشرک پر جنت کو حرام قرار دے دیا ہے ، تو وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگار ! میرا باپ ( یعنی اُس کا کیا بنے گا ؟ ) تو اُس کے باپ کی شکل تبدیل کر کے انتہائی بدصورت کر دی جائے گی اور اُس کی بو ، بدبودار ہو جائے گی ، تو وہ شخص اسے ( یعنی اپنے باپ کو چھوڑ دے گا ) “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اس بات کے قائل تھے کہ اُس شخص سے مراد ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف وہی ارشاد فرمایا تھا ( جس کے الفاظ ہم نے نقل کر دیے ہیں ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 462
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام ابويعليٰ فى مسنده 1044 أورده المؤلف فى كشف الاستار 94 اورده المؤلف فى المقصد العلى 56»
حدیث نمبر: 463
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَلْقَى رَجُلٌ أَبَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ : يَا أَبَتِ ، هَلْ أَنْتَ مُطِيعِي الْيَوْمَ ؟ وَهَلْ أَنْتَ تَابِعِي الْيَوْمَ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيَأْخُذُ بِيَدِهِ فَيَنْطَلِقُ بِهِ حَتَّى يَأْتِيَ بِهِ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَهُوَ يَعْرِضُ الْخَلْقَ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ لَا تُخْزِنِي ، فَيُعْرِضُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - عَنْهُ ، ثُمَّ يَقُولُ : مِثْلَ ذَلِكَ ، فَيَمْسَخُ اللَّهُ أَبَاهُ ضَبُعًا فَيَهْوِي فِي النَّارِ ، فَيَقُولُ : أَبُوكَ ، فَيَقُولُ : لَا أَعْرِفُكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن ، ایک شخص اپنے باپ کو ملے گا ، اور یہ کہے گا : اے ابا جان ! کیا آپ آج میری اطاعت کریں گے ؟ کیا آپ آج میری پیروی کریں گے ؟ تو اُس کا باپ جواب دے گا : جی ہاں ! تو وہ شخص اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساتھ لے کر ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، جو مخلوق کی طرف متوجہ ہو گا ، وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگارا ! تو نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا تھا کہ تو مجھے رسوا نہیں کرے گا ، تو پروردگار اس شخص سے منہ پھیرے گا ، پھر وہ شخص اسی کی مانند بات کہے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس کے باپ کو گوہ کی شکل میں مسخ کر دے گا ، اور پھر اسے جہنم میں ڈال دے گا ، اُس کا باپ کہے گا : میں تمہارا باپ ہوں ، تو وہ کہے گا : میں تمہیں نہیں پہچانتا ہوں“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 463
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 98»
حدیث نمبر: 464
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - أَنَّ الْحَارِثَ بْنَ هِشَامٍ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - يَوْمَ حَجَّةِ الْوَدَاعِ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّكَ تَحُثُّ عَلَى صِلَةِ الرَّحِمِ ، وَالْإِحْسَانِ إِلَى الْجَارِ ، وَإِيوَاءِ الْيَتِيمِ ، وَإِطْعَامِ الضَّيْفِ ، وَإِطْعَامِ الْمِسْكِينِ ، وَكُلُّ هَذَا كَانَ يَفْعَلُهُ هِشَامُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، فَمَا ظَنُّكَ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كُلُّ قَبْرٍ لَا يَشْهَدُ صَاحِبُهُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ فَهُوَ جَذْوَةٌ مِنَ النَّارِ ، وَقَدْ وَجَدْتُ عَمِّي أَبَا طَالِبٍ فِي طِمْطَامٍ مِنَ النَّارِ ، فَأَخْرَجَهُ اللَّهُ لِمَكَانِهِ مِنِّي وَإِحْسَانِهِ إِلَيَّ ، فَجَعَلَهُ فِي ضِحْضَاحٍ مِنَ النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلٍ ، وَهُوَ مُنْكَرُ الْحَدِيثِ لَا يَحْتَجُّونَ بِحَدِيثِهِ ، وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا ، جو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ محترمہ ہیں ، وہ بیان کرتی ہیں : ” حارث بن ہشام ، حجۃ الوداع کے دن ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : یا رسول اللہ ! آپ صلہ رحمی کرنے ، پڑوسی کے ساتھ اچھائی کرنے ، یتیم کی دیکھ بھال کرنے ، مہمان کو کھانا کھلانے ، غریب کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتے ہیں ، تو یہ سب کام تو ( میرے والد ) ہشام بن مغیرہ بھی کیا کرتے تھے ، یا رسول اللہ ! ان کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جس بھی قبر والا ( یعنی مرنے والوں میں سے جو بھی ) شخص اس بات کی گواہی نہیں دیتا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے تو وہ قبر جہنم کا ٹکڑا ہو گی ، میں نے اپنے چچا جناب ابوطالب کو جہنم کے سب سے گہرے حصے میں پایا ، اُن کی مجھ سے نسبت اور ان کے میرے ساتھ اچھے سلوک کی وجہ سے ، اللہ تعالیٰ نے انہیں اس مقام سے نکالا اور اُنہیں جہنم کے اوپر والے حصے میں رکھ دیا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن محمد بن عقیل ہے ، جو منکر الحدیث ہے ، لوگ اس کی حدیث سے استدلال نہیں کرتے ہیں ، ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 464
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجم الاوسط 7389»
حدیث نمبر: 465
وَعَنْ أُمِّ سَلَمَةَ قَالَتْ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ عَمِّي هِشَامَ بْنَ الْمُغِيرَةِ كَانَ يُطْعِمُ الطَّعَامَ ، وَيَصِلُ الرَّحِمَ ، وَيَفْعَلُ وَيَفْعَلُ ، فَلَوْ أَدْرَكَكَ أَسْلَمَ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " كَانَ يُعْطِي لِلدُّنْيَا وَحَمْدِهَا وَذِكْرِهَا ، وَمَا قَالَ يَوْمًا قَطُّ : اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي خَطِيئَتِي يَوْمَ الدِّينِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَأَبُو يَعْلَى ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرا چچا ہشام بن مغیرہ کھانا کھلایا کرتا تھا ، صلہ رحمی کرتا تھا ، یہ کرتا تھا ، اور وہ کرتا تھا ، اگر وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا زمانہ پا لیتا تو وہ مسلمان بھی ہو جاتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ دنیا کے لیے دنیا کی تعریف کے لیے ، دنیا میں چرچے کے لئے دیا کرتا تھا ، اُس نے کبھی ایک دن بھی یہ نہیں کہا: اے اللہ : قیامت کے دن میری خطاؤں کی مغفرت کر دینا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 465
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرج الامام ابو يعلى فى مسنده 6929 اورده المؤلف فى المقصد العلي 54»
حدیث نمبر: 466
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَخِي وَأَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمَّنَا مُلَيْكَةَ كَانَتْ تَصِلُ الرَّحِمَ ، وَتُقْرِي الضَّيْفَ وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ ، هَلَكَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَهَلْ ذَلِكَ نَافِعُهَا شَيْئًا ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : قُلْنَا : فَإِنَّهَا كَانَتْ وَأَدَتْ أُخْتًا لَهَا فَهَلْ ذَلِكَ نَافِعُهَا شَيْئًا ؟ قَالَ : " الْوَائِدَةُ وَالْمَوْءُودَةُ فِي النَّارِ ، إِلَّا أَنْ تُدْرِكَ الْوَائِدَةُ الْإِسْلَامَ لِيَعْفُوَ اللَّهُ عَنْهَا " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ، میرے بھائی اور میرے والد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے لیے روانہ ہوئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہماری والدہ ملیکہ صلہ رحمی کیا کرتی تھی ، مہمان نوازی کرتی تھی ، یہ کرتی تھی وہ کرتی تھی اُن کا انتقال زمانہ جاہلیت میں ہو گیا تھا ، تو کیا یہ چیز ( یعنی بھلائی کے کام کرنا ) انہیں نفع دے گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے کہا: اُس خاتون نے اپنی ایک بہن کو زندہ درگور ہونے سے بچا لیا تھا ، تو کیا یہ چیز انہیں کچھ فائدہ دے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زندہ درگور کرنے والی ، زندہ درگور ہونے والی جہنم میں جائیں گے ، البتہ اگر زندہ درگور کرنے والی عورت اسلام کو پا لے تو ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے درگزر کرے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 466
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 478/3 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 6319 آورده المؤلف فى زوائد المسند 155»
حدیث نمبر: 467
وَعَنْ عَدِيِّ بْنِ حَاتِمٍ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ ، وَيَفْعَلُ كَذَا وَكَذَا . قَالَ : " إِنَّ أَبَاكَ أَرَادَ أَمْرًا فَأَدْرَكَهُ " - يَعْنِي الذِّكْرَ - . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عدی بن حاتم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد صلہ رحمی کیا کرتے تھے اور فلاں فلاں کام کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تمہارے والد نے ایک چیز کا ارادہ کیا اور اُس کو پا لیا ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ، تذکرہ ( یعنی شہرت تھی ) ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کے رجال ثقہ ہیں ، اسے امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 467
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 258/4 اورده المؤلف فى زوائد المسند 163»
حدیث نمبر: 468
وَعَنْ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ أَنَّ عَدِيَّ بْنَ حَاتِمٍ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ ، وَيَحْمِلُ الْكَلَّ ، وَيُطْعِمُ الطَّعَامَ . قَالَ : فَهَلْ أَدْرَكَ الْإِسْلَامَ ؟ قَالَ : " لَا " قَالَ : " فَإِنَّ أَبَاكَ كَانَ يُحِبُّ أَنْ يُذْكَرَ فَذُكِرَ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ رِشْدِينُ بْنُ سَعْدٍ ، وَهُوَ مَتْرُوكُ الْحَدِيثِ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سہل بن سعد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : عدی بن حاتم ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور بولے : یا رسول اللہ ! میرے والد صلہ رحمی کرتے تھے ، دوسروں کا بوجھ اُٹھاتے تھے ، کھانا کھلاتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا انہوں نے اسلام کا زمانہ پایا ہے ؟ سیدنا عدی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : تمہارے والد اس چیز کو پسند کرتے تھے کہ ان کا ذکر کیا جائے ، تو اُن کا ذکر ہو گیا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی رشدین بن سعد ہے اور وہ متروک الحدیث ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 468
درجۂ حدیث محدثین: ضعیف جداً سند متروک اور انتہائی ضعیف ہے۔
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 5987»
حدیث نمبر: 469
وَعَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ : ذُكِرَ حَاتِمٌ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : " ذَاكَ رَجُلٌ أَرَادَ أَمْرًا فَأَدْرَكَهُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ عُبَيْدُ بْنُ وَاقَدٍ الْقَيْسِيُّ ، ضَعَّفَهُ أَبُو حَاتِمٍ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے حاتم طائی کا ذکر کیا گیا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : وہ ایک ایسا شخص تھا ، جس نے ایک چیز ( یعنی شہرت کے حصول ) کا ارادہ کیا ، تو اُس نے اس چیز کو پا لیا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبید بن واقد قیسی ہے ، جسے ابوحاتم نے ضعیف قرار دیا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 469
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى كشف الاستار 92»
حدیث نمبر: 470
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ عَامِرٍ الضَّبِّيِّ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أَبِي كَانَ يَصِلُ الرَّحِمَ ، وَيَقْرِي الضَّيْفَ ، وَيَفِي بِالذِّمَّةِ . قَالَ : " وَلَمْ يُدْرِكِ الْإِسْلَامَ ؟ " . قَالَ : لَا . فَلَمَّا وَلَّيْتُ ، فَقَالَ : " عَلَيَّ بِالشَّيْخِ " قَالَ : " يَكُونُ ذَلِكَ فِي عَقِبِكَ ، فَلَنْ تَزُولُوا ، وَلَنْ تَتَفَرَّقُوا أَبَدًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا سلمہ بن عامر ضبی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے والد صلہ رحمی کرتے تھے ، مہمان نوازی کرتے تھے ، ذمہ کو پورا کرتے تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : انہوں نے اسلام کا زمانہ نہیں پایا ؟ میں نے جواب دیا : جی نہیں ! جب میں مڑ کر جانے لگا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس بوڑھے کو میرے پاس لاؤ آپ نے فرمایا : یہ ( یعنی سخاوت کی عادت ) تمہارے بعد والوں میں رہے گی ، تم ہمیشہ اس پر رہو گے اور کبھی جدا نہیں ہو گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 470
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 6213»
حدیث نمبر: 471
وَعَنْ عَفِيفٍ الْكِنْدِيِّ قَالَ : بَيْنَا نَحْنُ عِنْدَ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - إِذْ أَقْبَلَ وَفْدٌ مِنَ الْيَمَنِ ، فَذَكَرُوا امْرَأَ الْقَيْسِ بْنَ حُجْرٍ الْكِنْدِيَّ ، وَذَكَرُوا بَيْتَيْنِ مِنْ شِعْرِهِ فِيهِمَا ذِكْرُ ضَارِجِ مَاءٍ مِنْ مِيَاهِ الْعَرَبِ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " ذَاكَ رَجُلٌ مَذْكُورٌ فِي الدُّنْيَا ، مَنْسِيٌّ فِي الْآخِرَةِ ، شَرِيفٌ فِي الدُّنْيَا خَامِلٌ فِي الْآخِرَةِ ، يَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ مَعَهُ لِوَاءُ الشُّعَرَاءِ يَقُودُهُمْ إِلَى النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ مِنْ طَرِيقِ سَعْدِ بْنِ فَرْوَةَ بْنِ عَفِيفٍ عَنْ أَبِيهِ عَنْ جَدِّهِ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ تَرْجَمَهُمْ . ¤
محمد محی الدین
سیدنا عفیف کندی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک مرتبہ ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس موجود تھے ، یمن کا وفد آ گیا ، اُن لوگوں نے ( زمانہ جاہلیت کے مشہور شاعر ) امراء القیس بن حجر کندی کا ذکر کیا ، اُس کے اشعار میں سے دو مصرعے ذکر کیے ، جن میں عرب کے پانیوں میں سے ایک پانی کے چشمے کا ذکر تھا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : وہ ایک ایسا شخص تھا ، جس کا ذکر دنیا میں ہے اور آخرت میں اُسے بھلا دیا جائے گا ، وہ دنیا میں معزز ہے اور آخرت میں بے عزت ہو گا ، جب وہ قیامت کے دن آئے گا ، تو اُس کے پاس شعراء کا جھنڈا ہو گا ، اور وہ ان ( شعراء ) کی قیادت کرتا ہوا جہنم کی طرف ( ان شعراء کو ) لے جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں ، سعد بن فروہ بن عفیف کے حوالے سے ، اُن کے والد اور دادا سے روایت کی ہے ، اور میں نے کسی کو ان کے حالات ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔
حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 471
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 100/18»