❮
❯
حدیث نمبر: 466
وَعَنْ سَلَمَةَ بْنِ يَزِيدَ الْجُعْفِيِّ قَالَ : انْطَلَقْتُ أَنَا وَأَخِي وَأَبِي إِلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : قُلْنَا : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ أُمَّنَا مُلَيْكَةَ كَانَتْ تَصِلُ الرَّحِمَ ، وَتُقْرِي الضَّيْفَ وَتَفْعَلُ وَتَفْعَلُ ، هَلَكَتْ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَهَلْ ذَلِكَ نَافِعُهَا شَيْئًا ؟ قَالَ : " لَا " . قَالَ : قُلْنَا : فَإِنَّهَا كَانَتْ وَأَدَتْ أُخْتًا لَهَا فَهَلْ ذَلِكَ نَافِعُهَا شَيْئًا ؟ قَالَ : " الْوَائِدَةُ وَالْمَوْءُودَةُ فِي النَّارِ ، إِلَّا أَنْ تُدْرِكَ الْوَائِدَةُ الْإِسْلَامَ لِيَعْفُوَ اللَّهُ عَنْهَا " .
رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ .
محمد محی الدین

سیدنا سلمہ بن یزید جعفی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں ، میرے بھائی اور میرے والد ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضری کے لیے روانہ ہوئے ، ہم نے عرض کی : یا رسول اللہ ! ہماری والدہ ملیکہ صلہ رحمی کیا کرتی تھی ، مہمان نوازی کرتی تھی ، یہ کرتی تھی وہ کرتی تھی اُن کا انتقال زمانہ جاہلیت میں ہو گیا تھا ، تو کیا یہ چیز ( یعنی بھلائی کے کام کرنا ) انہیں نفع دے گی ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جی نہیں ! راوی بیان کرتے ہیں : ہم نے کہا: اُس خاتون نے اپنی ایک بہن کو زندہ درگور کر دیا تھا ، تو کیا یہ چیز انہیں کچھ فائدہ دے گی ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : ” زندہ درگور کرنے والی ، زندہ درگور ہونے والی جہنم میں جائیں گے ، البتہ اگر زندہ درگور کرنے والی عورت اسلام کو پا لے تو ہو سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ اس سے درگزر کرے “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں اس کی مانند روایت نقل کی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 466
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 478/3 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 6319 آورده المؤلف فى زوائد المسند 155 ، أخرجه مسند أحمد برقم: 15493، وأخرجه مسند البزار برقم: 1825، وأخرجه المعجم الكبير للطبراني برقم: 6319، 6320»