مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ . باب: اہل جاہلیت کا بیان
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " يَلْقَى رَجُلٌ أَبَاهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ فَيَقُولُ : يَا أَبَتِ ، هَلْ أَنْتَ مُطِيعِي الْيَوْمَ ؟ وَهَلْ أَنْتَ تَابِعِي الْيَوْمَ ؟ فَيَقُولُ : نَعَمْ ، فَيَأْخُذُ بِيَدِهِ فَيَنْطَلِقُ بِهِ حَتَّى يَأْتِيَ بِهِ اللَّهَ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - وَهُوَ يَعْرِضُ الْخَلْقَ ، فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، إِنَّكَ وَعَدْتَنِي أَنْ لَا تُخْزِنِي ، فَيُعْرِضُ اللَّهُ - تَبَارَكَ وَتَعَالَى - عَنْهُ ، ثُمَّ يَقُولُ : مِثْلَ ذَلِكَ ، فَيَمْسَخُ اللَّهُ أَبَاهُ ضَبُعًا فَيَهْوِي فِي النَّارِ ، فَيَقُولُ : أَبُوكَ ، فَيَقُولُ : لَا أَعْرِفُكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن ، ایک شخص اپنے باپ کو ملے گا ، اور یہ کہے گا : اے ابا جان ! کیا آپ آج میری اطاعت کریں گے ؟ کیا آپ آج میری پیروی کریں گے ؟ تو اُس کا باپ جواب دے گا : جی ہاں ! تو وہ شخص اپنے باپ کا ہاتھ پکڑ کر اسے ساتھ لے کر ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں حاضر ہو گا ، جو مخلوق کی طرف متوجہ ہو گا ، وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگارا ! تو نے میرے ساتھ یہ وعدہ کیا تھا کہ تو مجھے رسوا نہیں کرے گا ، تو پروردگار اس شخص سے منہ پھیرے گا ، پھر وہ شخص اسی کی مانند بات کہے گا ، تو اللہ تعالیٰ اس کے باپ کو گوہ کی شکل میں مسخ کر دے گا ، اور پھر اسے جہنم میں ڈال دے گا ، اُس کا باپ کہے گا : میں تمہارا باپ ہوں ، تو وہ کہے گا : میں تمہیں نہیں پہچانتا ہوں“ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔