حدیث نمبر: 4635
وَعَنْ أَبِي عَبْسِ بْنِ جَبْرٍ قَالَ : لَمَّا حَضَّ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى الزَّكَاةِ قَالَ عُلْبَةُ بْنُ زَيْدٍ الْحَارِثِيُّ : اللَّهُمَّ أَنَّهُ لَيْسَ عِنْدِي شَيْءٌ أَتَصَدَّقُ بِهِ إِلَّا أَعْوَادٌ عَلَيْهَا شَجْبٌ مِنْ مَاءٍ وَوِسَادَةٌ حَشْوُهَا لِيفٌ ، اللَّهُمَّ إِنِّي أَتَصَدَّقُ بِعِرْضِي عَلَى مَنْ نَالَهُ مِنَ النَّاسِ . فَأَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَأَمَرَ مُنَادِيًا فَنَادَى : " أَيْنَ الْمُتَصَدِّقُ بِعِرْضِهِ الْبَارِحَةَ ؟ " . فَصَمَتَ . ثُمَّ أَعَادَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً . ثُمَّ قَامَ عُلْبَةُ ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حِينَ نَظَرَ إِلَيْهِ : " أَلَا إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ قَبِلَ صَدَقَتَكَ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ عَبْدُ الْمَجِيدِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَبْسٍ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوعبس بن جبر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے زکوۃ دینے کی ترغیب دی تو سیدنا علبہ بن زید حارثی رضی اللہ عنہ نے کہا: اے اللہ ! میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے ، جسے میں صدقہ کے طور پر دوں صرف کچھ لکڑیاں ہیں جس پر پانی کا مشکیزہ لٹکا ہوا ہے تکیہ ہے ، جس میں پتے بھرے ہوئے ہیں البتہ میں اپنی عزت اس شخص کو صدقہ کرتا ہوں جو اس کے درپے ہوتا ہے اگلے دن صبح نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے منادی کو حکم دیا اس نے اعلان کیا گزشتہ دن اپنی عزت کو صدقہ کرنے والا شخص کہاں ہے ، تو وہ خاموش رہے منادی نے دو یا شاید تین مرتبہ اعلان دہرایا تو سیدنا علبہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب ان کی طرف دیکھا تو ارشاد فرمایا : اے ابومحمد ! اللہ تعالیٰ نے تمہارے صدقہ کو قبول کر لیا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی عبدالمجید بن محمد بن ابی عبس ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4635
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف