مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ تَصَدَّقَ بِعِرْضِهِ . باب: اس شخص کا بیان ، جو اپنی عزت صدقہ کر دیتا ہے
وَعَنْ عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَثَّ يَوْمًا عَلَى الصَّدَقَةِ فَقَامَ عُلْبَةُ بْنُ زَيْدٍ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، مَا عِنْدِي إِلَّا عِرْضِي فَإِنِّي أُشْهِدُكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَنِّي تَصَدَّقْتُ بِعِرْضِي عَلَى مَنْ ظَلَمَنِي . ثُمَّ جَلَسَ قَالَ : فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - : " أَيْنَ عُلْبَةُ بْنُ زَيْدٍ ؟ " . قَالَهَا مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةً . قَالَ : فَقَامَ عُلْبَةُ فَقَالَ : " أَنْتَ الْمُتَصَدِّقُ بِعِرْضِكَ ، قَدْ قَبِلَ اللَّهُ مِنْكَ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَفِيهِ كَثِيرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، وَهُوَ ضَعِيفٌ . ¤سیدنا عمرو بن عوف رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صدقہ کرنے کی ترغیب دی تو سیدنا علبہ بن زید رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس صرف یہ عزت ہے میں آپ کو گواہ بناتا ہوں کہ میں اپنی عزت اس شخص کو صدقہ کرتا ہوں جو مجھ پر ظلم کرتا ہے پھر وہ بیٹھ گئے راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : علبہ بن زید کہاں ہے ؟ یہ بات آپ نے دو یا تین مرتبہ دریافت کی ، تو سیدنا علبہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم ہی وہ شخص جس نے اپنی عزت کو صدقہ کیا تھا اللہ تعالیٰ نے تمہاری طرف سے ( اس کو ) قبول کر لیا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی کثیر بن عبداللہ ہے ، اور وہ ضعیف ہے ۔