مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ . باب: اہل جاہلیت کا بیان
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - قَالَ : " لَيَأْخُذَنَّ رَجُلٌ بِيَدِ أَبِيهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَلَيُقْطِعَنَّهُ نَارًا ، يُرِيدُ أَنْ يُدْخِلَهُ الْجَنَّةَ ، قَالَ : فَيُنَادَى أَنَّ الْجَنَّةَ لَا يَدْخُلُهَا مُشْرِكٌ ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ حَرَّمَ الْجَنَّةَ عَلَى كُلِّ مُشْرِكٍ ، قَالَ : فَيَقُولُ : أَيْ رَبِّ ، أَبِي . قَالَ : فَيَتَحَوَّلُ فِي صُورَةٍ قَبِيحَةٍ وَرِيحٍ مُنْتِنَةٍ ، فَيَتْرُكُهُ " قَالَ : وَكَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ يَرَوْنَ أَنَّهُ إِبْرَاهِيمُ ، وَلَمْ يَزِدْهُمْ رَسُولُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - عَلَى ذَلِكَ . ¤ رَوَاهُ أَبُو يَعْلَى وَالْبَزَّارُ ، وَرِجَالُهُمَا رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” قیامت کے دن ، ایک شخص اپنے باپ کا ہاتھ پکڑے گا ، تاکہ اسے جہنم میں جانے سے روک لے ، وہ یہ ارادہ کرے گا : کہ اُسے جنت میں داخل کرے ، تو یہ اعلان کیا جائے گا : جنت میں کوئی مشرک داخل نہیں ہو گا ، بے شک اللہ تعالیٰ نے ہر مشرک پر جنت کو حرام قرار دے دیا ہے ، تو وہ شخص کہے گا : اے میرے پروردگار ! میرا باپ ( یعنی اُس کا کیا بنے گا ؟ ) تو اُس کے باپ کی شکل تبدیل کر کے انتہائی بدصورت کر دی جائے گی اور اُس کی بو ، بدبودار ہو جائے گی ، تو وہ شخص اسے ( یعنی اپنے باپ کو چھوڑ دے گا ) “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب اس بات کے قائل تھے کہ اُس شخص سے مراد ، سیدنا ابراہیم علیہ السلام ہیں ، لیکن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف وہی ارشاد فرمایا تھا ( جس کے الفاظ ہم نے نقل کر دیے ہیں ) ۔
یہ روایت امام ابویعلیٰ اور امام بزار نے نقل کی ہے اور ان دونوں کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔