مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ . باب: اہل جاہلیت کا بیان
وَعَنْ سَعْدٍ - يَعْنِي ابْنَ أَبِي وَقَّاصٍ - : أَنَّ أَعْرَابِيًّا أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ أَيْنَ أَبِي ؟ قَالَ : " فِي النَّارِ " قَالَ : فَأَيْنَ أَبُوكَ ؟ قَالَ : " حَيْثُمَا مَرَرْتَ بِقَبْرِ كَافِرٍ ، فَبَشِّرْهُ بِالنَّارِ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَزَادَ : فَأَسْلَمَ الْأَعْرَابِيُّ ، فَقَالَ : لَقَدْ كَلَّفَنِي رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِعَنَاءٍ ، مَا مَرَرْتُ بِقَبْرِ كَافِرٍ إِلَّا بَشَّرْتُهُ بِالنَّارِ " . وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ایک دیہاتی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور بولا: یا رسول اللہ ! میرا باپ کہاں ہے ؟ آپ نے فرمایا : جہنم میں ، اُس نے دریافت کیا : آپ کے والد کہاں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تم جب بھی کسی کافر کی قبر کے پاس سے گزرو ، تو اسے جہنم کی اطلاع دے دینا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے اسے معجم کبیر میں نقل کیا ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ زائد نقل کیے ہیں : ” اُس دیہاتی نے اطلاع قبول کر لیا ، اُس کا یہ کہنا تھا : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک مشقت والے کام کا پابند کیا ہے ، میں جب بھی کسی کافر کی قبر کے پاس سے گزرتا ہوں ، تو اُسے جہنم کی اطلاع دے دیتا ہوں “ ۔ اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔