مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ . باب: اہل جاہلیت کا بیان
حدیث نمبر: 460
وَعَنْ عِمْرَانَ بْنِ الْحُصَيْنِ أَنَّ أَبَاهُ الْحُصَيْنَ أَتَى النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَ : أَرَأَيْتَ رَجُلًا كَانَ يُقْرِي الضَّيْفَ وَيَصِلُ الرَّحِمَ مَاتَ قَبْلَكَ ، وَهُوَ أَبُوكَ ؟ فَقَالَ : إِنَّ أَبِي وَأَبَاكَ وَأَنْتَ فِي النَّارِ " فَمَاتَ حُصَيْنٌ مُشْرِكًا . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے تھے : اُن کے والد حصین نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، اور بولے : اپنے شخص کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ؟ جو مہمان نوازی اور صلہ رحمی کرتا تھا ، اور اُس کا انتقال آپ سے پہلے ہو گیا اور وہ شخص آپ کا والد ہے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میرا باپ ، تمہارا باپ اور تم جہنم میں ہو گے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو حصین کا انتقال مشرک ہونے کے عالم میں ہوا تھا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔