مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ . باب: اہل جاہلیت کا بیان
وَعَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - لَمَّا أَقْبَلَ مِنْ غَزْوَةِ تَبُوكَ وَاعْتَمَرَ ، فَلَمَّا هَبَطَ مِنْ ثَنِيَّةِ عُسْفَانَ ، أَمَرَ أَصْحَابَهُ أَنْ يَسْتَسْنِدُوا إِلَى الْعَقَبَةِ حَتَّى أَرْجِعَ إِلَيْكُمْ ، فَذَهَبَ فَنَزَلَ عَلَى قَبْرِ أُمِّهِ ، فَنَاجَى رَبَّهُ طَوِيلًا ، ثُمَّ إِنَّهُ بَكَى فَاشْتَدَّ بُكَاؤُهُ وَبَكَى هَؤُلَاءِ لِبُكَائِهِ ، وَقَالُوا : مَا بَكَى نَبِيُّ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - بِهَذَا الْمَكَانِ إِلَّا وَقَدْ حَدَثَ فِي أُمَّتِهِ شَيْءٌ لَا يُطِيقُهُ ، فَلَمَّا بَكَى هَؤُلَاءِ ، قَامَ فَرَجَعَ إِلَيْهِمْ فَقَالَ : " مَا يُبْكِيكُمْ ؟ " قَالُوا : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، بَكَيْنَا لِبُكَائِكَ ، قُلْنَا : لَعَلَّهُ حَدَثَ فِي أُمَّتِكَ شَيْءٌ لَا تُطِيقُهُ ، قَالَ : " لَا ، وَقَدْ كَانَ بَعْضُهُ ، وَلَكِنْ نَزَلْتُ عَلَى قَبْرٍ ، فَدَعَوْتُ اللَّهَ أَنْ يَأْذَنَ لِي فِي شَفَاعَتِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ، فَأَبَى اللَّهُ أَنْ يَأْذَنَ لِي ، فَرَحِمْتُهَا وَهِيَ أُمِّي فَبَكَيْتُ ، ثُمَّ جَاءَنِي جِبْرِيلُ عَلَيْهِ السَّلَامُ فَقَالَ : " وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَنْ مَوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ " ، فَتَبْرَأْ مِنْ أُمِّكَ كَمَا تَبَرَّأَ إِبْرَاهِيمُ مِنْ أَبِيهِ ، فَرَحِمْتُهَا وَهِيَ أُمِّي ، فَدَعَوْتُ رَبِّي أَنْ يَرْفَعَ عَنْ أُمَّتِي أَرْبَعًا فَرَفَعَ عَنْهُمُ اثْنَتَيْنِ ، وَأَبَى أَنْ يَرْفَعَ عَنْهُمُ اثْنَتَيْنِ : دَعَوْتُ رَبِّي أَنْ يَرْفَعَ عَنْهُمُ الرَّجْمَ مِنَ السَّمَاءِ ، وَالْغَرَقَ مِنَ الْأَرْضِ ، وَأَنْ لَا يُلْبِسَهُمْ شِيَعًا ، وَأَنْ لَا يُذِيقَ بَعْضَهُمْ بَأْسَ بَعْضٍ ، فَرَفَعَ عَنْهُمُ الرَّجْمَ مِنَ السَّمَاءِ ، وَالْغَرَقَ مِنَ الْأَرْضِ ، وَأَبَى اللَّهُ أَنْ تُرْفَعَ عَنْهُمُ اثْنَتَانِ : الْقَتْلُ وَالْهَرْجُ " . وَإِنَّمَا عَدَلَ إِلَى قَبْرِ أُمِّهِ ; لِأَنَّهَا مَدْفُونَةٌ تَحْتَ كَذَا وَكَذَا ، وَكَانَ عُسْفَانَ لَهُمْ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ أَبُو الدَّرْدَاءِ وَعَبْدُ الْغَفَّارِ بْنُ الْمُنِيبِ عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عِكْرِمَةَ ، وَمَنْ عَدَا عِكْرِمَةَ لَمْ أَعْرِفْهُمْ ، وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَهُمْ . ¤سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم غزوہ تبوک سے واپس تشریف لائے اور عمرہ کے لیے روانہ ہوئے ، تو جب ” عسفان “ نامی گھاٹی کے پاس پہنچے ، تو آپ نے اپنے اصحاب کو حکم دیا کہ وہ گھاٹی کے ساتھ ٹیک لگا کر رکھیں جب تک میں تم لوگوں کے پاس وقت نہیں آ جاتا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لے گئے اور اپنی والدہ کی قبر کے پاس ٹھہرے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار کی بارگاہ میں طویل مناجات کی ، پھر آپ رونے لگے اور بہت روئے ، یہاں تک کہ آپ کے رونے کی وجہ سے ، دوسرے لوگ بھی رونے لگے ، لوگوں نے دریافت کیا : اللہ کے نبی اس مقام پر کیوں روئے ہیں ؟ اس کی وجہ یہی ہو گی کہ آپ کی امت کے بارے میں کوئی ایسی چیز سامنے آئی ہو گی کہ آپ کو خود پر ق ابونہیں رہا ، جب لوگوں نے بھی رونا شروع کیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اُٹھے اور اُن لوگوں کے پاس واپس تشریف لائے ، تو آپ نے دریافت کیا : تم لوگ کیوں رو رہے ہو ؟ اُن لوگوں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! آپ کے رونے کی وجہ سے ہم بھی رو رہے ہیں ، ہم نے کہا: ہم یہ سمجھے کہ شاید آپ کی امت کے بارے میں کوئی نئی چیز رونما ہوئی ہے ، جس کی آپ طاقت نہیں رکھتے ( یا جسے دیکھ کر آپ کو خود پر ق ابونہیں رہا ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! ( یعنی ایسا نہیں ہے ) لیکن اس کا کچھ حصہ ہے ، میں اس قبر کے پاس آیا میں نے اللہ تعالیٰ سے دعا کی کہ وہ قیامت کے دن مجھے اُن کی شفاعت کرنے کی اجازت دے ، تو اللہ تعالیٰ نے مجھے اجازت دینے سے انکار کر دیا ، تو مجھے اس خاتون پر رحم آ گیا ، کیونکہ وہ میری والدہ ہیں ، تو میں رونے لگ گیا پھر جبرائیل میرے پاس آئے اور بولے : ( یعنی اُنہوں نے یہ آیات تلاوت کیں : ) ” ابراہیم نے اپنے باپ کے لئے جو استغفار کیا تھا ، وہ صرف ایک وعدے کی وجہ سے تھا ، جو اُس نے اس شخص کے ساتھ کیا تھا ، لیکن جب اُس ( یعنی ابراہیم ) کے سامنے یہ بات واضح ہو گئی کہ وہ شخص ، اللہ کا دشمن ہے ، تو اُس ( یعنی ابراہیم نے ) اس شخص سے لاتعلقی اختیار کی “ ۔ ( سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: ) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی اپنی والدہ سے اُسی طرح لاتعلقی اختیار کریں ، جس طرح سیدنا ابراہیم علیہ السلام نے اپنے والد سے لاتعلقی اختیار کی تھی ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں : تو مجھے اُن پر رحم آ گیا کیونکہ وہ میری والدہ ہیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بھی ارشاد فرمایا : ) میں نے اپنے پروردگار سے دعا مانگی کہ وہ میری امت سے چار چیزیں اُٹھا لے ، تو اُس نے اُن لوگوں سے دو چیزیں اٹھا لیں ، اور دو چیزیں اُن سے اُٹھانے سے انکار کر دیا ، میں نے اپنے پروردگار سے دعا کی : کہ وہ اُن سے یہ اُٹھا لے کہ انہیں آسمان سے سنگسار کیا جائے ، یا انہیں زمین میں ڈبو ( یعنی دھنسا ) دیا جائے ( اور یہ دعا مانگی : ) کہ اللہ تعالیٰ انہیں مختلف گروہوں میں تقسیم نہ کرے ، اور انہیں ایک دوسرے کے ذریعے ہلاکت کا شکار نہ کرے ، تو اللہ تعالیٰ نے ان سے یہ چیز اٹھا لی کہ انہیں آسمان سے سنگسار کیا جائے ، یا زمین میں پھنسایا جائے ، اور اللہ تعالیٰ نے اُن سے دو چیزیں اٹھانے سے انکار کر دیا ، قتل اور ہرج ۔ ( راوی بیان کرتے ہیں : ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنی والدہ کی قبر پر جانے کے لیے عام گزرگاہ سے ہٹ گئے تھے ، کیونکہ آپ کی والدہ فلاں جگہ پر دفن تھیں ، اور یہ ” عسفان “ کے مقام کی بات ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں یہ مذکور ہے : اسے ابودرداء اور عبدالغفار بن غنیم نامی راویوں نے اسحاق بن عبداللہ کے حوالے سے ، اُن کے والد کے حوالے سے ، عکرمہ سے روایت کیا ہے ، لیکن عکرمہ کے علاوہ باقی راویوں میں سے میں کسی سے واقف نہیں ہوں ، اور نہ ہی میں نے کسی کو ان کا ذکر کرتے ہوئے دیکھا ہے ۔