حدیث نمبر: 4598
عَنْ يَزِيدَ بْنِ الْأَخْنَسِ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " لَا تَنَافُسَ بَيْنِكُمْ إِلَّا فِي اثْنَتَيْنِ : رَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ الْقُرْآنَ فَهُوَ يَقُومُ بِهِ آنَاءَ اللَّيْلِ وَالنَّهَارِ ، وَيَتَّبِعُ مَا فِيهِ ، فَيَقُولُ رَجُلٌ : لَوْ أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَعْطَانِي مِثْلَ مَا أَعْطَى فُلَانًا فَأَقُومَ بِهِ كَمَا يَقُومُ بِهِ . وَرَجُلٌ أَعْطَاهُ اللَّهُ مَالًا فَهُوَ يُنْفِقُ مِنْهُ وَيَتَصَدَّقُ فَيَقُولُ رَجُلٌ : لَوْ أَنَّ اللَّهَ أَعْطَانِي مِثْلَ مَا أَعْطَى فُلَانًا فَأَتَصَدَّقَ بِهِ " . فَقَالَ رَجُلٌ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرَأَيْتُكَ النَّجْدَةَ تَكُونُ فِي الرَّجُلِ ؟ قَالَ : سَقَطَ بَاقِي الْحَدِيثِ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ كِتَابَةً وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ وَالْأَوْسَطِ وَالصَّغِيرِ ، وَفِيهِ سُلَيْمَانُ بْنُ مُوسَى ، وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وَثَّقَهُ جَمَاعَةٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا یزید بن اخنس رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” تم آپس میں صرف دو آدمیوں پر رشک کر سکتے ہو ایک وہ شخص جے اللہ تعالیٰ نے قرآن ( کا علم ) عطا کیا ہو ، اور وہ رات دن اس کے ساتھ مصروف رہتا ہو ، اور اس کے احکام کی پیروی کرتا ہو تو کوئی شخص یہ کہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے بھی وہ چیز عطا کر دے جو اس کو عطا کی ہے ، تو میں بھی اسی طرح مصروف رہوں گا جس طرح وہ مصروف رہتا ہے ، اور ایک وہ شخص جسے اللہ تعالیٰ نے مال عطا کیا ہو ، اور وہ اس میں سے خرچ کرتا ہو ، اور صدقہ کرتا ہو اگر کوئی شخص یہ کہے کہ اگر اللہ تعالیٰ مجھے اس طرح عطا کر دے جس طرح اس نے فلاں کو عطا کیا ہے ، تو میں بھی اسی طرح صدقہ کروں گا ایک صاحب نے عرض کی : یا رسول اللہ ! خوشحالی ( یا جسمانی صحت ) کے بارے میں آپ کی کیا رائے ہے ، جو کسی شخص میں پائی جاتی ہے “ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : روایت کا بقیہ حصہ ساقط ہے ۔
یہ روایت امام أحمد نے کتابت کے طور پر نقل کی ہے ۔ امام طبرانی نے معجم کبیر ، معجم اوسط اور معجم صغیر میں نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی سلیمان بن موسیٰ ہے اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ایک جماعت نے اسے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4598
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن۔
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (239/22) اخرجه الطبراني فى المعجم الاوسط (122) مجمع البحرين ، اخرجه الطبراني فى المعجم الصغير (125) اخرجه الامام احمد فى المسند (104/4 105)»