حدیث نمبر: 4597
وَعَنْ قَيْسِ بْنِ عَاصِمٍ الْمِنْقَرِيِّ قَالَ : قَدِمْتُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَآنِي سَمِعْتُهُ يَقُولُ : " هَذَا سَيِّدُ أَهْلِ الْوَبَرِ " . قَالَ : فَلَمَّا نَزَلْتُ أَتَيْتُهُ فَجَعَلْتُ أُحَدِّثُهُ ، قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، الْمَالُ الَّذِي لَا يَكُونُ عَلَيَّ فِيهِ تَبِعَةٌ مِنْ ضَيْفٍ ضَافَنِي وَعِيَالٍ كَثُرَتْ عَلَيَّ ؟ قَالَ : " نِعْمَ الْمَالُ الْأَرْبَعُونَ ، وَالْأَكْثَرُ السِّتُّونَ ، وَوَيْلٌ لِأَصْحَابِ الْمِئِينَ إِلَّا مَنْ أَعْطَى فِي رِسْلِهَا ، وَنَجْدَتِهَا ، وَأَفْقَرَ ظَهْرَهَا ، وَنَحَرَ سَمِينَهَا ، فَأَطْعَمَ الْقَانِعَ وَالْمُعْتَرَّ " . قَالَ : قُلْتُ : يَا نَبِيَّ اللَّهِ ، مَا أَكْرَمَ هَذِهِ الْأَخْلَاقَ وَأَحْسَنَهَا ، يَا نَبِيَّ اللَّهِ لَا يَحِلُّ بِالْوَادِي الَّذِي أَنَا فِيهِ لِكَثْرَةِ إِبِلِي ، قَالَ : " وَكَيْفَ تَصْنَعُ ؟ " قَالَ : تَغْدُو الْإِبِلُ وَيَغْدُوا النَّاسُ ، فَمَنْ شَاءَ أَخَذَ بِرَأْسِ بَعِيرٍ فَذَهَبَ بِهِ قَالَ : " مَا تَفْعَلُ بِإِفْقَارِ الظَّهْرِ ؟ " قُلْتُ : إِنِّي لَا أُفْقِرُ الصَّغِيرَ وَلَا النَّابَ الْمُدْبِرَةَ . قَالَ : " فَمَالُكَ أَحَبُّ إِلَيْكَ أَمْ مَالُ مَوَالِيكَ ؟ " . قُلْتُ : مَالِي أَحَبُّ إِلَيَّ مَنْ مَالِ مَوَالِيَّ . فَقَالَ : " فَإِنَّ لَكَ مِنْ مَالِكَ مَا أَكَلْتَ فَأَفْنَيْتَ ، أَوْ لَبِسْتَ فَأَبْلَيْتَ ، أَوْ أَعْطَيْتَ فَأَمْضَيْتَ ، وَإِلَّا فَلِمَوَالِيكَ " . فَقُلْتُ : وَاللَّهِ لَأَنْ بَقِيتُ لَأُفْنِيَنَّ عَدَدَهَا . قَالَ الْحَسَنُ : يَفْعَلُ وَاللَّهِ ، فَلَمَّا حَضَرَتْ قَيْسًا الْوَفَاةُ قَالَ : يَا بَنِيَّ خُذُوا عَنِّي لَا أَحَدَ أَنْصَحُ لَكُمْ مِنِّي ، إِذَا أَنَا مِتُّ فَسَوِّدُوا أَكْبَرَكُمْ وَلَا تُسَوِّدُوا أَصَاغِرَكُمْ فَتُسَفِّهَكُمُ النَّاسُ وَتَهُونُوا عَلَيْهِمْ ، وَعَلَيْكُمْ بِإِصْلَاحِ الْمَالِ فَإِنَّهُ مَنْبَهَةٌ لِلْكَرِيمِ ، وَيُسْتَغْنَى بِهِ عَنِ اللَّئِيمِ ، وَإِيَّاكُمْ وَالْمَسْأَلَةَ فَإِنَّهَا آخِرُ كَسْبِ الْمَرْءِ [ إِنَّ أَحَدًا لَمْ يَسْأَلْ إِلَّا تَرَكَ كَسْبَهُ ] ، فَإِذَا أَنَا مِتُّ فَلَا تَنُوحُوا عَلَيَّ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَنْهَى عَنِ النِّيَاحَةِ ، وَكَفِّنُونِي فِي ثِيَابِي الَّتِي كُنْتُ أُصَلِّي فِيهَا وَأَصُومُ ، فَإِذَا دَفَنْتُمُونِي فَلَا تَدْفِنُونِي فِي مَوْضِعٍ يَطَّلِعُ عَلَيْهِ أَحَدٌ ، فَإِنَّهُ قَدْ كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ بَكْرِ بْنِ وَائِلٍ خُمَاشَاتٌ فِي الْجَاهِلِيَّةِ ، فَأَخَافُ أَنْ يَنْبِشُونِي فَيَصْنَعُونَ فِي ذَلِكَ مَا يَذْهَبُ فِيهِ دِينُكُمْ وَدُنْيَاكُمْ . قَالَ الْحَسَنُ رَحِمَهُ اللَّهُ : نَصَحَ لَهُمْ فِي الْحَيَاةِ ، وَنَصَحَ لَهُمْ فِي الْمَمَاتِ . ¤ قُلْتُ : لَهُ عِنْدَ النَّسَائِيِّ : لَا تَنُوحُوا عَلَيَّ ; فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمْ يُنَحْ عَلَيْهِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِي الْأَوْسَطِ بِاخْتِصَارٍ ، وَفِيهِ زِيَادٌ الْخَصَّاصُ ، وَفِيهِ كَلَامٌ وَقَدْ وُثِّقَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا قیس بن عاصم منقری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جب آپ نے مجھے ملاحظہ فرمایا تو میں نے آپ کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : یہ دیہات کے رہنے والوں کا سردار ہے ، جب میں سواری سے اترا اور آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے ساتھ بات چیت کرنا شروع کی ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! وہ مال کیا ہے ؟ کہ جس کے بارے میں مجھ پر کوئی بوجھ نہ ہو ، جو مہمان کے حوالے سے ہو جو میرے ہاں مہمان کے طور پر ٹھہرتا ہے ، یا میرے عیال کی کثرت ( کی وجہ سے بھی اس مال کی موجودگی میں مجھ پر کوئی بوجھ نہ ہو ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اچھا مال چالیس ہے زیادہ مال ساٹھ ہے ، اور دو سو والے کے لئے بربادی ہے ، البتہ اس شخص کا معاملہ مختلف ہے ، جو ان ( اونٹوں ) کی صحت مندی اور کمزوری ( ہر حال ) میں دیتا ہے ، اور اس کی پشت کو سواری کے لئے دیتا ہے ، صحت مند اونٹ کو قربان کرتا ہے ، اور وہ مانگنے والے کو ، اور نہ مانگنے والے محتاج کو کھلاتا ہے ، راوی کہتے ہیں : میں نے عرض کی : اے اللہ کے نبی ! یہ اخلاق کتنے عمدہ اور کتنے خوبصورت ہیں ؟ اے اللہ کے نبی ! میں جس وادی میں رہتا ہوں ، وہاں میرے اونٹوں کی کثرت کی وجہ جگہ نہیں ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تم کیا کرتے ہو ؟ اس نے کہا: اونٹ آتے ہیں ، پھر لوگ آتے ہیں ، جو شخص چاہتا ہے اونٹ کا سر پکڑ کر اسے لے جاتا ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : سواری کو عاریت کے طور پر دینے کے حوالے سے تم کیا کرتے ہو ؟ میں نے جواب دیا : میں چھوٹی عمر کا جانور یا مسنہ اونٹنی عاریت کے طور پر نہیں دیتا ہوں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : تمہارا مال تمہارے نزدیک زیادہ محبوب ہے ؟ یا تمہارے موالی کا مال زیادہ محبوب ہے ؟ میں نے عرض کی : میرا مال میرے نزدیک میرے موالی کے مال سے زیادہ محبوب ہے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : تو تمہارے مال میں سے تمہارا حصہ وہ ہے ، جسے تم کھا کر فنا کر دو یا پہن کر پرانا کر دو اور جو تم دے دو گے وہ آگے بھیج دو گے ورنہ باقی سب تمہارے موالی ( ورثاء ) کا مال ہے میں نے عرض کی : اللہ کی قسم اگر میں زندہ رہا تو میں ان ( اونٹوں ) کی تعداد کو فنا کر دوں گا ۔ حسن بصری نامی راوی کہتے ہیں : انہوں نے ایسا ہی کیا تھا ، اللہ کی قسم جب سیدنا قیس رضی اللہ عنہ کی وفات کا وقت قریب آیا تو انہوں نے فرمایا : اے میرے بیٹو ! تم مجھ سے نصیحت حاصل کرو کیونکہ مجھ سے زیادہ تمہارا خیرخواہ اور کوئی نہیں ہے ، جب میں مر جاؤں تو تم اپنے سب سے بڑے بھائی کو سردار بنانا تم چھوٹوں کو سردار نہ بنانا ورنہ لوگ تمہیں بے وقوف بنائیں گے اور تم لوگ ان کے لئے ہلکے ہو جاؤ گے اور تم مال کی دیکھ بھال کرنا کیونکہ یہ معزز شخص کے لئے تنبیہ کا باعث ہے ، اور کمینے شخص سے آدمی کو ہے نیاز کر دیتا ہے ، اور تم مانگنے سے بچنا کیونکہ یہ آخری کمائی ہے ، جو شخص مانگتا ہے ، وہ کمائی کو ترک کر دیتا ہے ، جب میں مر جاؤں ، تو تم مجھ پر نوحہ نہ کرنا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نوحہ کرنے سے منع کیا ہے ، اور تم میرے ان ہی کپڑوں میں کفن دینا جن میں ، میں نماز ادا کرتا تھا اور روزہ رکھا کرتا تھا جب تم مجھے دفن کرو تو تم مجھے کسی ایسی جگہ پر دفن نہ کرنا جس کے بارے میں کسی کو پتہ چل سکے کیونکہ میرے اور بکر بن وائل کے درمیان زمانہ جاہلیت سے دشمنی چلی آ رہی ہے مجھے یہ اندیشہ ہے کہ وہ میری قبر کی بے ہرمتی کریں گے اور اس کے نتیجے میں تمہارے دین اور تمہاری دنیا دونوں میں ناگوار صورت حال ہو گی ۔ حسن فرماتے ہیں : انہوں نے زندگی میں بھی ان لوگوں کے لئے خیرخواہی کی اور مرنے کے بعد بھی ان لوگوں کے لئے خیرخواہی کی ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : ان صحابی کے حوالے سے امام نسائی رحمہ اللہ نے یہ روایت نقل کی ہے : ” تم مجھ پر نوحہ نہ کرنا کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا تھا “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور معجم اوسط میں اختصار کے ساتھ نقل کی ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی زیادہ خصاص ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ویسے اس کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4597
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (339/18)»