مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي أَهْلِ الْجَاهِلِيَّةِ . باب: اہل جاہلیت کا بیان
عَنْ بُرَيْدَةَ قَالَ : كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - حَتَّى إِذَا كُنَّا بِوَدَّانَ أَوْ بِالْقُبُورِ سَأَلَ الشَّفَاعَةَ لِأُمِّهِ - أَحْسَبُهُ قَالَ : - فَضَرَبَ جِبْرِيلُ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - صَدْرَهُ ، وَقَالَ : لَا تَسْتَغْفِرْ لِمَنْ مَاتَ مُشْرِكًا " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَقَالَ : لَمْ يَرْوِهِ بِهَذَا الْإِسْنَادِ إِلَّا مُحَمَّدُ بْنُ جَابِرٍ عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ . قُلْتُ : وَلَمْ أَرَ مَنْ ذَكَرَ مُحَمَّدَ بْنَ جَابِرٍ هَذَا . ¤سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ تھے ، یہاں تک کہ ہم ” ودان “ کے مقام پر پہنچے ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) کچھ قبروں کے پاس پہنچے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی والدہ کے لئے شفاعت کی دعا کی ( راوی بیان کرتے ہیں : میرا خیال ہے ، روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ) تو سیدنا جبرائیل علیہ السلام نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سینے پر ہاتھ مارا ، اور وہ بولے : آپ اُس کے لیے دعائے مغفرت نہ کریں ، جو مشرک ہونے کے عالم میں مر گیا تھا ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، وہ بیان کرتے ہیں ، اس سند کے ساتھ ، اس روایت کو صرف محمد بن جابر نے سماک بن حرب سے نقل کیا ہے ۔ ( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) : میں یہ کہتا ہوں : میں نے کسی شخص کو محمد بن جابر نامی اس راوی کا ذکر کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے ۔