مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ جَاءَهُ شَيْءٌ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ . باب: جس شخص کے پاس مانگے بغیر یا لالچ کے بغیر کوئی چیز آ جائے
وَعَنْ عَائِذِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " مَنْ عَرَضَ لَهُ مِنْ هَذَا الرِّزْقِ شَيْءٌ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ ، فَلْيَتَوَسَّعْ بِهِ فِي رِزْقِهِ ، فَإِنْ كَانَ عَنْهُ غَنِيًّا فَلْيُوَجِّهْهُ إِلَى مَنْ هُوَ أَحْوَجُ إِلَيْهِ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَقَالَ : " مَنْ عُرِضَ عَلَيْهِ مِنْ هَذَا الرِّزْقِ شَيْءٌ " . وَأَسْقَطَ أَحْمَدُ : " شَيْءٌ " . وَرِجَالُ أَحْمَدَ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤ قَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ : سَأَلْتُ أَبِي : مَا الْإِشْرَافُ ؟ قَالَ : تَقُولُ فِي نَفْسِكَ : سَيَبْعَثُ إِلَيَّ فُلَانٌ ، سَيَصِلُنِي فَلَانٌ . ¤سیدنا عائذ بن عمرو رضی اللہ عنہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : ” جس شخص کے سامنے اس رزق میں سے کوئی چیز ، مانگے بغیر اور لالچ کے بغیر آئے ، تو اُسے اس کے ذریعے اپنے مال میں کشادگی کرنی چاہیے ، اگر وہ خود اس سے بے نیاز ہو ، تو وہ چیز اس شخص کو دے دینی چاہیے ، جو اس سے زیادہ اس کا محتاج ہو “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” جس شخص کے سامنے اُس رزق میں سے کوئی چیز پیش کی جائے ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ؟ امام أحمد نے لفظ ” شی “ نقل نہیں کیا ، امام أحمد کے رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ۔ عبداللہ بن أحمد کہتے ہیں : میں نے اپنے والد سے دریافت کیا : ” اشراف “ ( یعنی لالچ ) سے مراد کیا ہے ؟ انہوں نے فرمایا : یہ کہ تم اپنے دل میں یہ سوچو کہ عنقریب فلاں شخص میری طرف کچھ بھیج دے گا ، یا عنقریب فلاں شخص مجھ تک کچھ پہنچا دے گا ۔