مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ جَاءَهُ شَيْءٌ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ . باب: جس شخص کے پاس مانگے بغیر یا لالچ کے بغیر کوئی چیز آ جائے
وَعَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ : سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ أَمْوَالِ السُّلْطَانِ قَالَ : " مَا آتَاكَ اللَّهُ مِنْهَا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَخُذْهُ وَتَمَوَّلْهُ " . ¤ وَقَالَ الْحَسَنُ : لَا بَأْسَ بِهَا مَا لَمْ يَرْحَلْ إِلَيْهَا أَوْ يُشْرِفْ لَهَا . ¤ وَفِي رِوَايَةٍ : " مَا آتَاكَ اللَّهُ مِنَّا مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ فَكُلْهُ " . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَفِيهِ رَجُلٌ لَمْ يُسَمَّ . ¤سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے حاکم وقت کی طرف ملنے والے مال کے بارے میں دریافت کیا گیا ، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اگر تو وہ ( مال ) مانگے بغیر اور لالچ کے بغیر ، اللہ تعالیٰ نے تمہیں دیا ہو ، تو تم وہ لے لو اور اس کے ذریعے تم مال میں اضافہ کرو ۔ حسن فرماتے ہیں : اس میں کوئی حرج نہیں ہے ، جبکہ آدمی اس صورت میں چل کر اس مال کی طرف نہ گیا ہو ، یا اس کے دل میں اس کے لئے لالچ نہ ہو ۔ ” ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : ” ہم میں سے ، جس کی طرف سے ، اللہ تعالیٰ تمہیں مانگے بغیر مال عطا کر دے ، تو تم اُسے کھا لو ( یعنی حاصل کر لو ! “ ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی ایسا ہے ، جس کا نام بیان نہیں کیا گیا ہے ۔