حدیث نمبر: 4560
وَعَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدِ بْنِ عَدِيٍّ الْجُهَنِيِّ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " مَنْ بَلَغَهُ مَعْرُوفٌ مِنْ أَخِيهِ مِنْ غَيْرِ مَسْأَلَةٍ وَلَا إِشْرَافٍ فَلْيَقْبَلْهُ وَلَا يَرُدَّهُ ; فَإِنَّمَا هُوَ رِزْقٌ سَاقَهُ اللَّهُ إِلَيْهِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَأَبُو يَعْلَى عَنْ أَحْمَدَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْمَوْصِلِيِّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَبَقِيَّةُ رِجَالِهِ رِجَالُ الصَّحِيحِ ، وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا زید بن خالد جہنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” جس شخص کو اس کے بھائی کی طرف سے کچھ مانگے بغیر اور لالچ کے بغیر کوئی بھلائی پہنچے ، تو اُسے اس کو قبول کرنا چاہیے اور اسے واپس نہیں کرنا چاہیے ، کیونکہ وہ ( ایسا ) رزق ہے ، جو اللہ تعالیٰ نے اس کی طرف بھیجا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں اور امام ابویعلیٰ نے نقل کی ہے ، انہوں نے اسے أحمد بن ابراہیم موصلی سے نقل کیا ہے ، وہ ثقہ ہے ، اس روایت کے بقیہ رجال ” صحیح “ کے رجال ہیں ، اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4560
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (5241)»