حدیث نمبر: 455
وَعَنْ عَلْقَمَةَ قَالَ : كُنَّا جُلُوسًا عِنْدَ عَائِشَةَ ، فَدَخَلَ أَبُو هُرَيْرَةَ فَقَالَتْ : أَنْتَ الَّذِي تُحَدِّثُ أَنَّ امْرَأَةً عُذِّبَتْ فِي هِرَّةٍ رَبَطَتْهَا ، فَلَمْ تُطْعِمْهَا وَلَمْ تَسْقِهَا ؟ فَقَالَ : سَمِعْتُهُ مِنْهُ - يَعْنِي النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَقَالَتْ : هَلْ تَدْرِي مَا كَانَتِ الْمَرْأَةُ ؟ إِنَّ الْمَرْأَةَ مَعَ مَا فَعَلَتْ كَانَتْ كَافِرَةً ، وَإِنَّ الْمُؤْمِنَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - مِنْ أَنْ يُعَذِّبَهُ فِي هِرَّةٍ ، فَإِذَا حَدَّثْتَ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَانْظُرْ كَيْفَ تُحَدِّثُ . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤
محمد محی الدین

علقمہ بیان کرتے ہیں : ہم لوگ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس بیٹھے ہوئے تھے ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ آئے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا تم یہ حدیث بیان کرتے ہو ؟ کہ ایک عورت کو بلی کی وجہ سے عذاب دیا گیا ، جس بلی کو اُس نے باندھ دیا تھا وہ عورت اُسے کچھ کھانے کے لیے نہیں دیتی تھی ، اور پینے کے لئے نہیں دیتی تھی ، تو سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بتایا : یہ بات میں نے اُن سے سنی ہے ، سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی مراد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم تھے ، تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا : کیا تم جانتے ہو ؟ وہ عورت کون تھی ؟ اُس عورت نے جو کچھ بھی کیا ، اُس کے ہمراہ وہ کافر بھی تھی ، اور مومن ، اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس سے بلند حیثیت رکھتا ہے ، کہ اللہ تعالیٰ کسی بلی کی وجہ سے اُسے عذاب دے ، جب تم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے کوئی حدیث بیان کرو ! تو اس بات کا جائزہ لے لیا کرو ! کہ تم کیا بیان کر رہے ہو ؟
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے اور اس کے رجال صحیح کے رجال ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 455
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اورده المؤلف فى زوائد المسند 162»