حدیث نمبر: 456
وَعَنْ أَبِي رَزِينٍ الْعُقَيْلِيِّ عَنْ عَمِّهِ قَالَ : قُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَيْنَ أُمِّي ؟ قَالَ : " أُمُّكَ فِي النَّارِ " . قَالَ : قُلْتُ : فَأَيْنَ مَنْ مَضَى مِنْ أَهْلِكَ ؟ قَالَ : " أَمَا تَرْضَى أَنْ تَكُونَ أُمُّكَ مَعَ أُمِّي " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

ابورزین عقیلی ، اپنے چچا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میری والدہ کہاں ہیں ؟ آپ نے فرمایا : تمہاری والدہ جہنم میں ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : میں نے دریافت کیا : آپ کے اہل خانہ میں سے جو لوگ ( دنیا سے ) رخصت ہو چکے ہیں ، وہ کہاں ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تمہاری ماں ، میری ماں کے ساتھ ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اس کو امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کیا ہے اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 456
درجۂ حدیث محدثین: إسناده صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى مسنده 11/4 اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 208/19 اورده المؤلف فى زوائد المسند 156»