مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْيَدِ الْعُلْيَا وَمَنْ أَحَقُّ بِالصِّلَةِ . باب: اوپر والے ہاتھ کا بیان اور صلہ رحمی کا زیادہ حق دار کون ہے ؟
حدیث نمبر: 4536
وَعَنْ رَجُلٍ مِنْ بَنَى يَرْبُوعٍ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا ; أُمَّكَ وَأَبَاكَ ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ، وَأَدْنَاكَ ثُمَّ أَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
بنویر بوع سے تعلق رکھنے والے ایک صاحب بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” دینے والا ہاتھ اوپر والا ہاتھ ہوتا ہے ( تم خرچ کرتے ہوئے یوں خرچ کرو ، کہ پہلے ) تمہاری ماں ، تمہارا باپ ، تمہارا بھائی ، تمہاری بہن اور پھر درجہ بدرجہ قریبی عزیز ہوں“ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ” صحیح“ کے رجال ہیں ۔