مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْيَدِ الْعُلْيَا وَمَنْ أَحَقُّ بِالصِّلَةِ . باب: اوپر والے ہاتھ کا بیان اور صلہ رحمی کا زیادہ حق دار کون ہے ؟
حدیث نمبر: 4537
وَعَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ الْيَرْبُوعِيِّ ، أَنَّهُ انْتَهَى إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَمِعَهُ يَقُولُ : " يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا ; أُمَّكَ وَأَبَاكَ ، وَأُخْتَكَ فَأَخَاكَ ، وَأَدْنَاكَ أَدْنَاكَ " . رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَذُكِرَ بِأَسَانِيدَ أُخَرَ عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ ثَعْلَبَةَ قَالَ مِثْلَهُ ، وَرِجَالُهُمَا ثِقَاتٌ ، وَرِجَالُ الْأَوَّلِ رِجَالُ الصَّحِيحِ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ثعلبہ بن زہدم یربوعی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” دینے والا ہاتھ اوپر والا ہوتا ہے ( تم یوں خرچ کرو ) تمہاری ماں ، تمہارا باپ ، تمہاری بہن ، اور تمہارا بھائی اور پھر درجہ بدرجہ تمہارے قریبی عزیز “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، دیگر اسانید کے ساتھ یہ روایت اسود بن ثعلبہ کے حوالے سے منقول ہے ، انہوں نے اس کی مانند نقل کی ہے ، ان دونوں روایات کے رجال ثقہ ہیں ، تاہم پہلی روایت کے رجال ، صحیح کے رجال ہیں ۔