مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْيَدِ الْعُلْيَا وَمَنْ أَحَقُّ بِالصِّلَةِ . باب: اوپر والے ہاتھ کا بیان اور صلہ رحمی کا زیادہ حق دار کون ہے ؟
حدیث نمبر: 4535
وَعَنْ أَبِي رِمْثَةَ قَالَ : أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ، وَهُوَ يَخْطُبُ وَيَقُولُ : " يَدُ الْمُعْطِي الْعُلْيَا ; أُمَّكَ وَأَبَاكَ ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ ، وَأَدْنَاكَ فَأَدْنَاكَ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ الْمَسْعُودِيُّ ، وَهُوَ ثِقَةٌ ، وَلَكِنَّهُ اخْتَلَطَ . ¤محمد محی الدین
سیدنا ابورمثہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، آپ اس وقت خطبہ دے رہے تھے ، آپ نے ارشاد فرمایا : ” دینے والا ہاتھ اوپر والا ہوتا ہے ( تم خرچ کرتے ہوئے ، یوں خرچ کرو ، کہ پہلے ) تمہاری ماں ، تمہارا باپ ، تمہارا بھائی ، پھر درجہ بدرجہ قریبی عزیز ہوں “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی مسعودی ہے ، اور وہ ثقہ ہے ، تاہم وہ اختلاط کا شکار ہوا تھا ۔