مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْيَدِ الْعُلْيَا وَمَنْ أَحَقُّ بِالصِّلَةِ . باب: اوپر والے ہاتھ کا بیان اور صلہ رحمی کا زیادہ حق دار کون ہے ؟
وَعَنْ عَطِيَّةَ قَالَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " الْيَدُ الْمُعْطِيَةُ خَيْرٌ مِنَ الْيَدِ السُّفْلَى " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالْبَزَّارُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ وَالْكَبِيرِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : عَنْ عَطِيَّةَ : أَنَّهُ قَدِمَ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَفْدِ قَوْمِهِ ، فَلَمَّا دَخَلُوا عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " هَلْ قَدِمَ مَعَكُمْ أَحَدٌ غَيْرُكُمْ ؟ " قَالُوا : نَعَمْ ، فَتًى خَلَّفْنَاهُ عَلَى رِحَالِنَا ، قَالَ : " أَرْسِلُوا إِلَيْهِ " . فَلَمَّا أُدْخِلْتُ عَلَيْهِ وَهُمْ عِنْدَهُ اسْتَقْبَلَنِي ، فَقَالَ : " إِنَّ الْيَدَ الْمُنْطِيَةَ هِيَ الْعُلْيَا ، وَإِنَّ الْيَدَ السَّائِلَةَ هِيَ السُّفْلَى ، وَمَا اسْتَغْنَيْتَ فَلَا تَسَلْ ، فَإِنَّ مَالَ اللَّهِ مَسْئُولٌ وَمُنْطًى " . فَكَلَّمَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بُلْغَتِي ، وَرِجَالُ أَحْمَدَ ثِقَاتٌ . ¤سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” دینے والا ہاتھ نیچے والے ہاتھ سے بہتر ہوتا ہے “ ۔
یہ روایت امام أحمد ، امام بزار اور امام طبرانی نے معجم اوسط اور معجم کبیر میں نقل کی ہے ، تاہم انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : سیدنا عطیہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : ” وہ اپنی قوم کے وفد کے ہمراہ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، جب وہ لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آئے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کیا تمہارے ساتھ کوئی ایسا فرد بھی آیا ہے ، جو تمہارے علاوہ ہو ؟ لوگوں نے عرض کی : جی ہاں ! ایک نوجوان ہے ، جسے ہم اپنے پیچھے اپنی سواریوں میں چھوڑ کے آئے ہیں ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اسے پیغام بھیج کر اسے بلواؤ ! جب مجھے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لایا گیا ، تو میرے ساتھی آپ کے پاس موجود تھے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرا استقبال کیا ، آپ نے ارشاد فرمایا : منطیہ ( یعنی دینے والا ) ہاتھ اوپر والا ہوتا ہے ، اور مانگنے والا ہاتھ نیچے والا ہوتا ہے ، جب تک تم بے نیاز ہو ، تم نہ مانگو ! کیونکہ اللہ تعالیٰ کا مال ، اس کے بارے میں حساب بھی لیا جائے گا ، اور وہ دیا بھی جائے گا ، راوی کہتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ میرے محاور ے کے مطابق بات چیت کی “ ۔ امام أحمد کے رجال ثقہ ہیں ۔