مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّؤَالِ . باب: مانگنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ حَكِيمِ بْنِ حِزَامٍ قَالَ : جَاءَ مَالٌ مِنَ الْبَحْرَيْنِ فَدَعَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْعَبَّاسَ فَحَفَنَ لَهُ ، قَالَ : " أَزِيدُكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، فَحَفَنَ لَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَزِيدُكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، فَحَفَنَ لَهُ ، ثُمَّ قَالَ : " أَزِيدُكَ ؟ " قَالَ : نَعَمْ ، قَالَ : " أَبْقِ لِمَنْ بَعْدَكَ " ثُمَّ دَعَانِي فَحَفَنَ لِي ، فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، خَيْرٌ لِي أَوْ شَرٌّ لِي ؟ قَالَ : " لَا بَلْ شَرٌّ لَكَ " ، فَرَدَدْتُ عَلَيْهِ مَا أَعْطَانِي ثُمَّ قُلْتُ : لَا وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَا أَقْبَلُ مِنْ أَحَدٍ عَطِيَّةً بَعْدَكَ . ¤ قَالَ مُحَمَّدٌ - يَعْنِي ابْنَ سِيرِينَ - : قَالَ حَكِيمٌ : فَقُلْتُ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، ادْعُ اللَّهَ أَنْ يُبَارِكَ لِي . قَالَ : " اللَّهُمَّ بَارِكْ لَهُ فِي صَفْقَةِ يَدِهِ " . ¤ قُلْتُ : لِحَكِيمٍ حَدِيثٌ غَيْرُ هَذَا فِي الصَّحِيحِ . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ . ¤سیدنا حکیم بن حزام رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : بحرین سے کچھ مال آیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور انہیں کچھ مال دیا ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا میں آپ کو مزید دوں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں مزید دیا ، پھر آپ نے دریافت کیا : کیا میں آپ کو مزید دوں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اور دیا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا : کیا میں آپ کو مزید دوں ؟ انہوں نے جواب دیا : جی ہاں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اپنے بعد والے کے لئے بھی باقی رہنے دیں ، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا اور مجھے دیا ، تو میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا یہ میرے حق میں بہتر ہے ، یا برا ہے ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : جی نہیں ! بلکہ یہ تمہارے حق میں برا ہے ۔ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے جو مجھے دیا تھا ، وہ میں نے آپ کو واپس کر دیا ، پھر میں نے عرض کی : اس ذات کی قسم ! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد میں کبھی کسی سے کوئی عطیہ قبول نہیں کروں گا ۔ محمد بن سیرین بیان کرتے ہیں : سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی : میں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے کہ وہ مجھے برکت نصیب کرے ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی : ” اے اللہ ! تو اس کے ہاتھ کے سودے میں ، اس کے لئے برکت رکھ دے “ ۔
( علامہ ہیثمی فرماتے ہیں : ) میں یہ کہتا ہوں : سیدنا حکیم رضی اللہ عنہ سے منقول حدیث جو ” صحیح “ میں منقول ہے ، وہ اس کے علاوہ ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ۔