حدیث نمبر: 4530
وَعَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ ، قَالَتْ : قُلْتُ لَهُ : مَا لَكَ لَا تَطْلُبُهُ كَمَا يَطْلُبُ فُلَانٌ وَفُلَانٌ ؟ قَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنْ وَرَاءَكُمْ عَقَبَةً كَؤُودًا لَا يَجُوزُهَا الْمُثْقِلُونَ ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَتَخَفَّفَ لِتِلْكَ الْعَقَبَةِ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤
محمد محی الدین

سیده ام درداء رضی اللہ عنہ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ کے حوالے سے یہ بات نقل کرتی ہیں : میں نے ان سے کہا: کیا وجہ ہے کہ آپ اس طرح نہیں طلب کرتے ہیں ، جس طرح فلاں اور فلاں طلب کر لیتے ہیں ؟ تو انہوں نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” تمہارے آگے ایک دشوار گزار گھاٹی ہے ، بوجھل لوگ اسے پار نہیں کر سکیں گے “ ۔ ( سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے فرمایا : ) تو مجھے یہ بات پسند ہے کہ اُس گھاٹی کے لئے ، میں ہلکا پھلکا رہوں ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4530
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح