مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّؤَالِ . باب: مانگنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَا تَصْلُحُ الْمَسْأَلَةُ لِغَنِيٍّ إِلَّا مِنْ ذِي رَحِمٍ أَوْ سُلْطَانٍ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِيهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ خِرَاشٍ وَثَّقَهُ ابْنُ حِبَّانَ ، وَضَعَّفَهُ جَمَاعَةٌ . وَلَهُ عِنْدَ أَبِي دَاوُدَ ، وَالتِّرْمِذِيِّ ، وَالنَّسَائِيِّ مِنْ رِوَايَةِ زَيْدِ بْنِ عُقْبَةَ عَنْهُ : " أَنَّ الْمَسْأَلَةَ كَدٌّ يَكُدُّ بِهَا الرَّجُلُ وَجْهَهُ إِلَّا أَنْ يَسْأَلَ الرَّجُلُ سُلْطَانًا أَوْ فِي أَمْرٍ لَابُدَّ مِنْهُ " . ¤سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” کسی خوشحال شخص کے لئے مانگنا جائز نہیں ہے ، البتہ وہ کسی رشتہ دار سے یا حاکم وقت سے مانگ سکتا ہے “ ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی عبداللہ بن خراش ہے ، جسے ابن حبان نے ” ثقہ “ قرار دیا ہے ، اور ایک جماعت نے اُسے ” ضعیف“ قرار دیا ہے ، اُن صحابی کے حوالے سے امام ابوداؤد امام ترمذی اور امام نسائی رحمہ اللہ نے ایک روایت نقل کی ہے ، جو زید بن عقبہ نے اُن سے نقل کی ہے ۔ ( اُس کے الفاظ یہ ہیں : ) ” مانگنا ایک خراش ہے ، جو آدمی اپنے چہرے پر ڈال لیتا ہے ، البتہ اگر آدمی حاکم وقت سے مانگے ، یا کسی ایسی صورت حال میں مانگے ، جس میں مانگے بغیر چارہ نہ ہو ، تو معاملہ مختلف ہے “ ۔