مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّؤَالِ . باب: مانگنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كَانَتْ لِي عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عِدَةٌ ، فَلَمَّا فُتِحَتْ قُرَيْظَةُ جِئْتُ لِيُنْجِزَ لِي مَا وَعَدَنِي فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ : " مَنْ يَسْتَغْنِ يُغْنِهِ اللَّهُ ، وَمَنْ يَقْنَعْ يُقْنِعْهُ اللَّهُ " . فَقُلْتُ فِي نَفْسِي : لَا جَرَمَ ، لَا أَسْأَلُهُ شَيْئًا صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَأَبُو سَلَمَةَ قِيلَ : إِنَّهُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ أَبِيهِ . ¤ابوسلمہ بن عبدالرحمن ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے ساتھ وعدہ کیا ہوا تھا ، جب قریظہ فتح ہوا ، تو میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا ، تاکہ آپ نے میرے ساتھ جو وعدہ کیا تھا ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہ پورا کر دیں ، تو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا : ” جو شخص بے نیازی اختیار کرتا ہے ، اللہ تعالی اسے بے نیاز رکھتا ہے ، جو شخص قناعت حاصل کرنا چاہتا ہے ، اللہ تعالی اسے قناعت عطا کر دیتا ہے “ ۔ راوی کہتے ہیں : تو میں نے دل میں سوچا کہ یہ تو ضروری ہے کہ میں اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کچھ نہ مانگوں ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے ، ابوسلمہ نامی راوی کے بارے میں یہ بات بیان کی گئی ہے : انہوں نے اپنے والد سے سماع نہیں کیا ہے ۔