مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّؤَالِ . باب: مانگنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَعَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ سَأَلَ مَسْأَلَةً عَنْ ظَهْرِ غِنًى اسْتَكْثَرَ بِهَا مِنْ رَضْفِ جَهَنَّمَ " . قَالُوا : وَمَا ظَهْرُ غِنًى ؟ قَالَ : " عَشَاءُ لَيْلَةٍ " . ¤ رَوَاهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْأَوْسَطِ ، وَفِي إِسْنَادِهِمَا الْحَسَنُ بْنُ ذَكْوَانَ ، عَنْ حَبِيبِ بْنِ أَبِي ثَابِتٍ . وَالْحَسَنُ - وَإِنْ أَخْرَجَ لَهُ الْبُخَارِيُّ - فَقَدْ ضَعَّفَهُ غَيْرُ وَاحِدٍ ، وَلَمْ يَسْمَعْهُ مِنْ حَبِيبٍ . بَيْنَهُمَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ الْوَاسِطِيُّ ، كَمَا حَكَاهُ ابْنُ عَدِيٍّ فِي الْكَامِلِ ، عَنِ ابْنِ صَاعِدٍ ، وَعُمَرُو بْنُ خَالِدٍ كَذَّبَهُ أَحْمَدُ ، وَابْنُ مَعِينٍ ، وَالدَّارَقُطْنِيُّ . ¤سیدنا علی رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” جو شخص خوشحال ہونے کے باوجود کچھ مانگتا ہے ، تو وہ اس کے ذریعے جہنم کے انگاروں میں اضافہ کرتا ہے “ لوگوں نے عرض کی : خوشحال ہونے سے مراد کیا ہے ؟ آپ نے فرمایا : رات کا کھانا موجود ہونا “ ۔
یہ روایت عبداللہ بن أحمد نے نقل کی ہے ، امام طبرانی نے معجم اوسط میں نقل کی ہے ، ان دونوں کی سند میں یہ بات مذکور ہے : اسے حسن بن ذکوان نے حبیب بن ابوثابت سے نقل کیا ہے ، حسن نامی راوی کے حوالے سے اگرچہ امام بخاری رحمہ اللہ نے روایت نقل کیا ہے ، لیکن ایک سے زیادہ افراد نے اسے ” ضعیف “ قرار دیا ہے ، اور اس نے حبیب سے سماع بھی نہیں کیا ہے ان دونوں کے درمیان ایک راوی عمرو بن خالد واسطی ہے ، جیسا کہ ابن عدی نے یہ بات کتاب ” الکامل “ میں ابن صاعد کے حوالے سے نقل کی ہے ۔ عمرو بن خالد نامی راوی کو امام أحمد ، یحیی بن معین اور امام دارقطنی رحمہ اللہ نے جھوٹا قرار دیا ہے ۔