مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابُ مَا جَاءَ فِي السُّؤَالِ . باب: مانگنے کے بارے میں جو کچھ منقول ہے
وَفِي رِوَايَةٍ : أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ : " سِتَّةُ أَيَّامٍ ثُمَّ اعْقِلْ يَا أَبَا ذَرٍّ مَا يُقَالُ لَكَ بَعْدُ " . فَلَمَّا كَانَ الْيَوْمُ السَّابِعُ قَالَ : " أُوصِيكَ بِتَقْوَى اللَّهِ فِي سِرِّ أَمْرِكَ وَعَلَانِيَتِهِ ، وَإِذَا أَسَأْتَ فَأَحْسِنْ ، وَلَا تَسْأَلَنَّ أَحَدًا شَيْئًا وَإِنْ سَقَطَ سَوْطُكَ ، وَلَا تَقْبِضْ أَمَانَةً [ وَلَا تَقْضِ بَيْنَ اثْنَيْنِ ] . ¤ رَوَاهُ كُلَّهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ ثِقَاتٌ . ¤ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” چھ دن ہیں ، اے ابوذر ! سمجھ لو کہ اُس کے بعد تم سے کیا کہا: جائے گا ؟ جب ساتواں دن آیا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : میں تمہیں اپنے معاملے کے پوشیدہ اور علانیہ ، ہر حوالے سے ، اللہ تعالیٰ کا تقویٰ اختیار کرنے کی تلقین کرتا ہوں ، جب تم کوئی برائی کرو ، تو اچھائی بھی کر لو ، اور کبھی تم کسی سے کوئی چیز نہ مانگنا ، خواہ تمہاری چھڑی گر جائے ، اور تم امانت قبضے میں نہ لینا ، اور تم دو آدمیوں کے درمیان فیصلہ نہ دینا “ ۔ یہ تمام روایات امام أحمد نے نقل کی ہیں اور اس کے رجال ثقہ ہیں ۔