حدیث نمبر: 4503
وَعَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ : بَايَعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَمْسًا وَوَاثَقَنِي سَبْعًا ، وَأَشْهَدَ اللَّهَ عَلَيَّ تِسْعًا : أَنِّي لَا أَخَافُ فِي اللَّهَ لَوْمَةَ لَائِمٍ . ¤ قَالَ أَبُو الْمُثَنَّى : قَالَ أَبُو ذَرٍّ : فَدَعَانِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : " هَلْ لَكَ فِي الْبَيْعَةِ وَلَكَ الْجَنَّةُ ؟ " . قُلْتُ : نَعَمْ . وَبَسَطْتُ يَدِي ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَشْتَرِطُ عَلَيَّ أَنْ لَا أَسْأَلَ النَّاسَ شَيْئًا . قُلْتُ : نَعَمْ . قَالَ : " وَلَا سَوْطَكَ إِنْ سَقَطَ مِنْكَ حَتَّى تَنْزِلَ فَتَأْخُذَهُ " . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے پانچ چیزوں کے حوالے سے مجھ سے بیعت لی تھی ، سات چیزوں کے حوالے سے مجھ سے پختہ عہد لیا تھا ، اور نو چیزوں کے حوالے سے اللہ تعالٰی کو گواہ بنایا تھا ۔ یہ کہ میں اللہ تعالی کے بارے میں کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پرواہ نہیں کروں گا ۔ ابومثنی بیان کرتے ہیں : سیدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ نے یہ بات بیان کی ہے : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلایا اور ارشاد فرمایا : کیا تم بیعت کرنے میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ تمہیں جنت ملے گی ، میں نے عرض کی : جی ہاں ! پھر میں نے ہاتھ پھیلایا ، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ پر شرط عائد کرتے ہوئے یہ بات ارشاد فرمائی کہ میں کبھی لوگوں سے کچھ نہیں مانگوں گا ، میں نے عرض کی : ٹھیک ہے ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : یہاں تک کہ اگر تمہاری چھڑی گر جائے گی ، تو وہ بھی نہیں مانگو گے ، بلکہ خود اتر کر اسے پکڑو گے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4503
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ ضعیف