حدیث نمبر: 4505
وَعَنْ أَبِي أُمَامَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " مَنْ يُبَايِعُ ؟ " . فَقَالَ ثَوْبَانُ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : [عَلَى مَ نُبَايِعُ ؟ أَلَيْسَ قَدْ بَايَعْنَاكَ مَرَّةً] يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " عَلَى أَنْ لَا تَسْأَلُوا أَحَدًا شَيْئًا " . فَقَالَ ثَوْبَانُ : فَمَا لَهُ بِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ ؟ قَالَ : " الْجَنَّةُ " . فَبَايَعَهُ ثَوْبَانُ . قَالَ أَبُو أُمَامَةَ : فَلَقَدْ رَأَيْتُهُ بِمَكَّةَ فِي أَجْمَعِ مَا يَكُونُ مِنَ النَّاسِ يَسْقُطُ سَوْطُهُ ، وَهُوَ رَاكِبٌ فَرُبَّمَا وَقَعَ عَلَى عَاتِقِ رَجُلٍ فَيَأْخُذُهُ الرَّجُلُ فَيُنَاوِلُهُ فَمَا يَأْخُذُهُ مِنْهُ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَنْزِلُ فَيَأْخُذُهُ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : کون بیعت کرے گا ؟ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غلام سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : ہم کس بات پر بیعت کریں ؟ کیا ہم ایک مرتبہ آپ کی بیعت کر نہیں چکے ہیں ؟ یا رسول اللہ ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : اس بات پر کہ تم کبھی کسی سے کچھ نہیں مانگو گے ، سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! اس کے عوض میں آدمی کو کیا ملے گا ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جنت ، تو سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی بیعت کر لی ۔ سیدنا ابوامامہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : میں نے سیدنا ثوبان رضی اللہ عنہ کو مکہ میں دیکھا کہ وہ لوگوں کے ہجوم میں موجود تھے ، ان کی چھڑی گر گئی ، وہ سوار تھے ، ان کی چھڑی کسی شخص کے کندھے پر گری تھی ، اُس شخص نے اسے لیا اور انہیں پکڑانا چاہا ، تو انہوں نے اس سے نہیں لی ، یہاں تک کہ وہ خود نیچے اترے اور انہوں نے خود وہ اُٹھائی ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4505
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ صحیح
تخریج حدیث «اخرجه الطبراني فى المعجم الكبير (7832)»