حدیث نمبر: 4482
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَدَ تَمْرَةً تَحْتَ جَنْبِهِ مِنَ اللَّيْلِ فَأَكَلَهَا ، فَلَمْ يَنَمْ تِلْكَ اللَّيْلَةَ ، فَقَالَ بَعْضُ نِسَائِهِ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، أَرِقْتَ الْبَارِحَةَ ؟ قَالَ : " إِنِّي وَجَدْتُ [ تَحْتَ جَنْبِي ] تَمْرَةً فَأَكَلْتُهَا ، وَكَانَ عِنْدَنَا تَمْرٌ مِنْ تَمْرِ الصَّدَقَةِ ، فَخَشِيتُ أَنْ تَكُونَ مِنْهُ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَرِجَالُهُ مُوَثَّقُونَ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے رات کے وقت اپنے پہلو کے نیچے ایک کھجور پائی اور اسے کھا لیا ، پھر اس کے بعد آپ پوری رات سو نہیں سکے ، آپ کی زوجہ محترمہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! کیا آپ گزشتہ رات جاگتے رہے ہیں ؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : میں نے اپنے پہلو کے نیچے ایک کھجور پائی تھی تو اُسے کھا لیا تھا ، ہمارے پاس صدقہ کی کھجوریں بھی موجود تھیں ، تو مجھے یہ اندیشہ ہوا کہ کہیں وہ اُن میں سے نہ ہو ۔
یہ روایت امام أحمد نے نقل کی ہے ، اور اس کے رجال کی توثیق کی گئی ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الزكاة / حدیث: 4482
درجۂ حدیث محدثین: إسنادہ حسن
تخریج حدیث «اخرجه الامام احمد فى المسند (6820)»