مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعَشَّارِينَ ، وَالْعُرَفَاءِ ، وَأَصْحَابِ الْمُكُوسِ . باب: عشر وصول کرنے والے ، عرفاء ( یعنی سرکاری اہلکاروں ) ٹیکس وصول کرنے والوں کا بیان
وَعَنْ مَوْدُودِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ كُرَيْبِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ سَيْفِ بْنِ جَارِيَةَ الْيَرْبُوعِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، أَنَّهُ أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ ، إِنَّ رَجُلًا مَنْ بَنِي تَمِيمٍ ذَهَبَ بِمَالِي كُلِّهِ ؟ فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " لَيْسَ عِنْدِي مَا أُعْطِيكَهُ " . ثُمَّ قَالَ : " وَهَلْ لَكَ أَنْ تُعَرِّفَ عَلَى قَوْمِكَ ؟ " . أَوْ " أَلَا أُعَرِّفُكَ عَلَى قَوْمِكَ ؟ " قُلْتُ : لَا . قَالَ : " أَمَا إِنَّ الْعَرِيفَ يُدْفَعُ فِي النَّارِ دَفْعًا " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَمَوْدُودٌ وَأَبُوهُ لَمْ أَجِدْ مَنْ تَرْجَمَهُمَا . ¤مودود بن حارث بن یزید بن کریب بن یزید بن سيف بن جاریہ یربوعی ، اپنے والد کے حوالے سے ، اپنے دادا کے بارے میں یہ بات نقل کرتے ہیں : وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، انہوں نے عرض کی : یا رسول اللہ ! بنوتمیم سے تعلق رکھنے والا ایک شخص میرا پورا مال لے گیا ۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا : میرے پاس ایسی کوئی چیز نہیں ہے ، جو میں تمہیں دے دوں ، پھر آپ نے فرمایا : کیا تم اس بات میں دلچسپی رکھتے ہو ؟ کہ تم اپنی قوم کے عریف بن جاؤ ( راوی کو شک ہے ، شاید یہ الفاظ ہیں : ) کیا میں تمہیں تمہاری قوم کا عریف نہ بنا دوں ؟ میں نے عرض کی : جی نہیں ! نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : جہاں تک عریف کا تعلق ہے ، تو اسے یکبارگی جہنم میں پھینک دیا جائے گا ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، مودود نامی راوی اور اس کے والد کے حالات بیان کرتے ہوئے ، میں نے کسی کو نہیں پایا ہے ۔