مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الإيمان— ایمان کے بارے میں روایات
بَابٌ فِيمَنْ يُغْوِيهِمُ الشَّيْطَانُ . باب: اُن لوگوں کا بیان، جنہیں شیطان بھٹکا دیتا ہے
عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ قُرَّةَ عَنْ أَبِيهِ قَالَ : كُنْتُ مَعَ أَبِي نُرِيدُ النَّبِيَّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَلَمَّا كُنَّا بِبَعْضِ الطَّرِيقِ مَرَرْنَا بِحَيٍّ فَبِتْنَا فِيهِ ، فَإِذَا الرَّاعِي قَدْ جَاءَ إِلَى أَهْلِ الْحَيِّ يَسْعَى يَقُولُ : لَسْتُ أَرْعَى لَكُمْ ، فَإِنَّ الذِّئْبَ يَجِيءُ كُلَّ لَيْلَةٍ فَيَأْخُذُ شَاةً مِنَ الْغَنَمِ ، وَالصَّنَمُ يَنْظُرُ لَا يُنْكِرُ وَلَا يُغَيِّرُ ، فَقَالُوا : أَقِمْ عَلَيْنَا - أَحْسَبُهُ قَالَ : حَتَّى نَأْتِيَهُ - فَأَتَوْهُ ، فَتَكَلَّمُوا حَوْلَهُ . قَالَ لِلرَّاعِي : أَقِمِ اللَّيْلَةَ . قَالَ : إِنِّي أُقِيمُ اللَّيْلَةَ حَتَّى نَنْظُرَ . قَالَ : فَبِتْنَا لَيْلَتَنَا ، فَلَمَّا كَانَ صَلَاةُ الْغَدَاةِ إِذِ الرَّاعِي يَشْتَدُّ إِلَى أَهْلِ الْقَرْيَةِ يَقُولُ لَهُمْ : الْبُشْرَى ، أَلَا تَرَوْنَ الذِّئْبَ مَرْبُوطًا بَيْنَ يَدَيِ الْغَنَمِ بِغَيْرِ وِثَاقٍ ؟ فَجَاءُوا وَجِئْنَا مَعَهُمْ . قَالَ : فَقَالَ : نَعَمْ ، هَكَذَا فَاصْنَعْ ، فَقَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثَهُ أَبِي الْحَدِيثَ فَقَالَ : " يَتَلَعَّبُ بِهِمُ الشَّيْطَانُ " . ¤ رَوَاهُ الْبَزَّارُ ، وَمَدَارُهُ عَلَى أَزْهَرَ بْنِ سِنَانٍ ، ضَعَّفَهُ ابْنُ مَعِينٍ ، وَقَالَ ابْنُ عَدِيٍّ : أَحَادِيثُهُ صَالِحَةٌ لَيْسَتْ بِالْمُنْكَرَةِ جِدًّا . ¤معاویہ بن قرہ ، اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : میں اپنے والد کے ساتھ ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہونے کے ارادے سے روانہ ہوا ، راستے میں کسی جگہ ہمارا گزر ایک قبیلے کے پاس سے ہوا ، رات گزارنے کے لیے ہم وہاں ٹھہر گئے ایک چرواہا دوڑتا ہوا ، قبیلے کے افراد کے پاس آیا ، اور بولا: میں تم لوگوں کے جانور نہیں چراؤں گا ، کیونکہ روزانہ رات کے وقت بھیڑیا آتا ہے اور ایک بکری لے جاتا ہے ، جبکہ بت دیکھتا ہے ، لیکن وہ نہ تو انکار کرتا ہے ، اور نہ ہی کوئی تبدیلی کرتا ہے ، اُن لوگوں نے کہا: تم ہمارے ہاں رہو ! راوی کہتے ہیں : میرا خیال ہے روایت میں یہ الفاظ بھی ہیں : ہم اس بت کے پاس چلتے ہیں ، وہ لوگ اس بت کے پاس آئے ، اُنہوں نے اُس کے ارد گرد کوئی بات چیت کی ، پھر انہوں نے چرواہے سے کہا: آج رات ٹھہرے رہو ! اس چرواہے نے کہا: آج رات میں ٹھہر جاتا ہوں ، تاکہ یہ دیکھوں کہ کیا بنتا ہے ؟ راوی بیان کرتے ہیں : ہم بھی اُس رات وہاں ٹھہر گئے ، اگلے دن صبح کی نماز کے وقت چرواہا بھاگتا ہوا بستی والوں کی طرف آیا اور اُن سے کہنے لگا : خوشخبری ہے ! کیا تم نے دیکھا نہیں ؟ کہ بھیڑیا کسی بندش کے بغیر بکریوں کے آگے بندھا پڑا تھا ، پھر وہ لوگ آئے اُن کے ساتھ ہم بھی گئے ، راوی بیان کرتے ہیں : تو اُس نے کہا: ٹھیک ہے تم اسی طرح کرو ! راوی بیان کرتے ہیں : جب ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے ، تو میرے والد نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ واقعہ سنایا ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا : ” شیطان ، ان لوگوں کے ساتھ کھلواڑ کرتا ہے “ ۔
یہ روایت امام بزار نے نقل کی ہے اور اس کا مدار ، ازہر بن سنان نامی راوی پر ہے ، جسے یحیی بن معین نے ضعیف قرار دیا ہے ، ابن عدی کہتے ہیں : اس کی نقل کردہ احادیث صالح ہیں ، اور زیادہ منکر نہیں ہیں ۔