حدیث نمبر: 447
وَعَنْ أَبِي رَيْحَانَةَ قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللَّهِ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : " إِنَّ إِبْلِيسَ يَضَعُ عَرْشَهُ عَلَى الْبَحْرِ فَيَتَشَبَّهُ بِاللَّهِ - عَزَّ وَجَلَّ - وَدُونَهُ الْحُجُبُ ، فَيَنْدُبُ جُنُودَهُ فَيَقُولُ : مَنْ لِفُلَانٍ الْآدَمِيِّ ؟ فَيَقُومُ اثْنَانِ فَيَقُولُ : قَدْ أَجَّلْتُكُمَا سَنَةً ، فَإِنْ أَغْوَيْتُمَاهُ وَضَعْتُ عَنْكُمَا التَّعَبَ ، وَإِلَّا صَلَبْتُكُمَا " . قَالَ : فَكَانَ يَقُولُ لِأَبِي رَيْحَانَةَ : " لَقَدْ صُلِبَ فِيكَ كَثِيرٌ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَفِيهِ يَحْيَى بْنُ طَلْحَةَ الْيَرْبُوعِيُّ ، ضَعَّفَهُ النَّسَائِيُّ ، وَذَكَرَهُ ابْنُ حِبَّانَ فِي الثِّقَاتِ . ¤
محمد محی الدین

سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں : نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا ہے : ” ابلیس اپنا تخت سمندر پر رکھتا ہے ، اور اللہ تعالیٰ کے ساتھ مشابہت ظاہر کرتا ہے ، حالانکہ اللہ تعالیٰ کی ذات سے پہلے بہت سے حجابات ہیں ، ابلیس اپنے لشکر روانہ کرتا ہے ، تو یہ کہتا ہے : فلاں آدمی کو کون سنبھالے گا ؟ تو اُس کے دو چیلے کھڑے ہو جاتے ہیں وہ کہتا ہے : میں تم دونوں کو ایک سال کی مہلت دیتا ہوں ، اگر تم دونوں نے اُسے گمراہ کر دیا ، تو میں تمہاری مشقت ختم کر دوں گا ، ورنہ میں تم دونوں کو مصلوب کر دوں گا “ ۔ راوی بیان کرتے ہیں : تو کسی شخص نے سیدنا ابوریحانہ رضی اللہ عنہ سے کہا: آپ کی وجہ سے ، تو پھر بہت سے شیاطین مصلوب ہوئے ہوں گے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس کی سند میں ایک راوی یحیی بن طلحہ یربوعی ہے ، جسے امام نسائی رحمہ اللہ نے ضعیف قرار دیا ہے ، جبکہ ابن حبان نے اس کا ذکر کتاب ” الثقات “ میں کیا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 447
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف۔