حدیث نمبر: 449
وَعَنْهُ أَيْضًا قَالَ : ذَهَبْتُ لِأُسْلِمَ حِينَ بُعِثَ النَّبِيُّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - وَأَرَدْتُ أَنْ أَدْخَلَ مَعَ رَجُلَيْنِ أَوْ ثَلَاثَةٍ فِي الْإِسْلَامِ ، فَأَتَيْتُ الْمَاءَ حَيْثُ يَجْتَمِعُ النَّاسُ ، فَإِذَا أَنَا بِرَاعِي الْقَرْيَةِ الَّذِي يَرْعَى أَغْنَامَهُمْ ، فَقَالَ : لَا أَرْعَى لَكُمْ أَغْنَامَكُمْ . قَالُوا : لِمَ ؟ قَالَ : يَجِيءُ الذِّئْبُ كُلَّ لَيْلَةٍ ، فَيَأْخُذُ شَاةً وَصَنَمُنَا هَذَا قَائِمٌ لَا يَضُرُّ وَلَا يَنْفَعُ وَلَا يُغَيِّرُ وَلَا يُنْكِرُ . قَالَ : فَرَجَعُوا وَأَنَا أَرْجُو أَنْ يُسَلِّمُوا ، فَلَمَّا أَصْبَحْنَا جَاءَ الرَّاعِي يَشْتَدُّ ، مَا الْبُشْرَى ؟ مَا الْبُشْرَى ؟ قَدْ جِيءَ بِالذِّئْبِ فَهُوَ بَيْنَ يَدَيِ الْغَنَمِ مَقْمُوطًا ، فَذَهَبْتُ مَعَهُمْ ، فَقَبَّلُوهُ وَسَجَدُوا لَهُ ، وَقَالُوا : هَكَذَا فَاصْنَعْ . فَدَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ - صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ - فَحَدَّثْتُهُ هَذَا الْحَدِيثَ فَقَالَ : " عَبَثَ بِهِمُ الشَّيْطَانُ " . ¤ رَوَاهُ الطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ ، وَقَدْ تَقَدَّمَ الْكَلَامُ عَلَيْهِ قَبْلَهُ . ¤
محمد محی الدین

اُنہی سے یہ روایت منقول ہے : وہ بیان کرتے ہیں : جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت ہوئی ، تو میں ( اسلام قبول کرنے کیلئے ) اپنے علاقے سے روانہ ہوا ، میرا ارادہ یہ تھا کہ میں دو ( راوی کو شک ہے ، یا شاید یہ الفاظ ہیں : ) تین آدمیوں سمیت اسلام داخل ہوؤں گا ، میں ایک پانی کے تالاب وغیرہ ) کے پاس آیا ، جہاں لوگ اکٹھے رہ رہے تھے ، میرے سامنے بستی والوں کا چرواہا آیا ، جو ان کی بکریاں چرایا کرتا تھا ، اُس نے کہا: میں تم لوگوں کی بکریاں نہیں چراؤں گا ، اُن لوگوں نے دریافت کیا : وہ کیوں ؟ اُس نے کہا: روزانہ رات کے وقت بھیڑیا آتا ہے اور ایک بکری لے جاتا ہے ، جبکہ ہمارا صنم ( یعنی بت ) کھڑا رہتا ہے ، وہ نہ کوئی نقصان پہنچاتا ہے ، نہ کوئی فائدہ دیتا ہے ، نہ کوئی تبدیلی کرتا ہے ، نہ انکار کرتا ہے ، راوی بیان کرتے ہیں : وہ لوگ واپس چلے گئے ، مجھے یہ امید تھی کہ وہ لوگ مسلمان ہو جائیں گے ، اگلے دن صبح چرواہا دوڑتا ہوا آیا اور بولا: کیا خوشخبری ہے ! کیا خوشخبری ہے ! بھیڑیوں کو لایا گیا اور اب وہ بکریوں کے آگے بندھا پڑا ہے ۔ راوی بیان کرتے ہیں : میں بھی اُن لوگوں کے ساتھ گیا ، ان لوگوں نے بت کو بوسے دیئے اور اسے سجدہ کیے اور یہ کہا: ( آئندہ ) اب تم ایسا ہی کرنا ۔ راوی بیان کرتے ہیں : جب میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کو اس واقعے کے بارے میں بتایا ، تو آپ نے ارشاد فرمایا : شیطان نے اُن لوگوں کے ساتھ کھلواڑ کیا ہے ۔
یہ روایت امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، اس روایت پر کلام اس سے پہلے گزر چکا ہے ۔

حوالہ حدیث مجمع الزوائد ومنبع الفوائد / كتاب الإيمان / حدیث: 449
درجۂ حدیث محدثین: إسناده ضعیف
تخریج حدیث «اخرجه الامام الطبراني فى معجمه الكبير 31/19»