مجمع الزوائد ومنبع الفوائد
كتاب الزكاة— زکوۃ کے بارے میں روایات
بَابٌ فِي الْعَشَّارِينَ ، وَالْعُرَفَاءِ ، وَأَصْحَابِ الْمُكُوسِ . باب: عشر وصول کرنے والے ، عرفاء ( یعنی سرکاری اہلکاروں ) ٹیکس وصول کرنے والوں کا بیان
وَعَنْ أَبِي الْخَيْرِ قَالَ : عَرَضَ مَسْلَمَةُ بْنُ مَخْلَدٍ - وَكَانَ أَمِيرًا عَلَى مِصْرَ - عَلَى رُوَيْفِعِ بْنِ ثَابِتٍ أَنْ يُوَلِّيَهُ الْعُشُورَ ، فَقَالَ : إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ : " إِنَّ صَاحِبَ الْمُكْسِ فِي النَّارِ " . ¤ رَوَاهُ أَحْمَدُ ، وَالطَّبَرَانِيُّ فِي الْكَبِيرِ بِنَحْوِهِ ، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ : " صَاحِبُ الْمَكْسِ فِي النَّارِ " - يَعْنِي : الْعَاشِرَ . وَفِيهِ ابْنُ لَهِيعَةَ ، وَفِيهِ كَلَامٌ . ¤ابوالخیر بیان کرتے ہیں : مسلمہ بن مخلد ، جو مصر کے گورنر تھے ، انہوں نے سیدنا رویفع بن ثابت رضی اللہ عنہ کو یہ پیشکش کی کہ وہ انہیں عشر وصول کرنے کا نگران بنا دیتے ہیں ، تو سیدنا رویفع رضی اللہ عنہ نے بتایا : میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے : ” ناجائز ٹیکس وصول کرنے والا جہنم میں جائے گا “ ۔
یہ روایت امام أحمد نے اور امام طبرانی نے معجم کبیر میں نقل کی ہے ، البتہ انہوں نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں : ” ٹیکس وصول کرنے والا جہنم میں جائے گا “ ( راوی کہتے ہیں : ) اس سے مراد عاشر ہے ۔ اس کی سند میں ایک راوی ابن لہیعہ ہے ، اور اس کے بارے میں کلام کیا گیا ہے ۔